مکہ مکرمہ: سعودی عرب نے حج 2026 کے لیے سکیورٹی کے غیر معمولی اور جامع انتظامات مکمل کرتے ہوئے عازمینِ حج کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فضائی دفاعی نظام کو مکمل طور پر فعال کر دیا ہے، مقدس مقامات کے گرد جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور نگرانی کے مربوط نظام کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق مکہ مکرمہ اور مسجد الحرام کے اطراف جدید اینٹی ایئرکرافٹ گنز، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹمز اور جدید ریڈار نصب کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کی فوری نشاندہی اور بروقت ردعمل ممکن بنایا جا سکے، حج کے ایام میں فضائی اور زمینی نگرانی مسلسل جاری رکھی جائے گی۔
حکام کے مطابق دنیا بھر سے آنے والے عازمینِ حج کی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اسی مقصد کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی سکیورٹی اقدامات کو فعال بنایا گیا ہے، یہ نظام کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حج سکیورٹی فورسز کے کمانڈرز نے بتایا ہے کہ اس سال مختلف ممالک سے آنے والے عازمینِ حج کی تعداد 15 لاکھ 18 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے پیش نظر سکیورٹی اور انتظامی اقدامات کو پہلے سے زیادہ منظم اور وسیع کیا گیا ہے۔
پریس کانفرنس میں یہ بھی بتایا گیا کہ تقریباً 30 فیصد عازمین روٹ ٹو مکہ انیشی ایٹو کے تحت جدید اور تیز رفتار امیگریشن نظام کے ذریعے سعودی عرب پہنچے، جس سے آمدورفت کے عمل میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
سعودی حکام کے مطابق حج کے دوران رہائش، نقل و حمل، سکیورٹی اور نگرانی کے تمام مراحل میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ لاکھوں عازمینِ حج کو محفوظ، منظم اور پُرسکون ماحول فراہم کیا جا سکے اور عبادات کے دوران کسی بھی قسم کی دشواری سے بچا جا سکے۔