اسلام آباد: جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے احتجاج کی کال کے بعد آزاد کشمیر کی سیکیورٹی کو انتہائی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آزاد کشمیر میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے اور امن و امان کی فضا برقرار رکھنے کی غرض سے اسلام آباد پولیس کی بڑی نفری طلب کی گئی ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام نے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی تیار کی ہے۔ آئی جی اسلام آباد نے اس اہم مشن کے لیے 1505 افسران اور جوانوں پر مشتمل خصوصی فورس کی آزاد کشمیر منتقلی کی منظوری دے دی ہے جو وہاں تعینات رہے گی۔
روانہ ہونے والی اس بھاری نفری میں اعلیٰ ترین پولیس افسران بھی شامل ہیں۔ اس دستے میں ایک ڈی آئی جی، 2 ایس ایس پیز، 4 ایس پیز کے علاوہ 8 اے ایس پی یا ڈی ایس پی سطح کے افسران شامل ہیں۔ یہ تمام افسران سیکیورٹی انتظامات کی نگرانی اور نگرانی کریں گے۔
پولیس کی اس نفری میں 16 انسپکٹرز، 2 سب انسپکٹرز، 70 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز اور 1382 کانسٹیبلز بھی شامل ہیں۔ یہ تمام جوان مکمل اینٹی رائٹ گیئر یعنی فسادات کو کنٹرول کرنے والے خصوصی حفاظتی آلات کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیں گے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کا بروقت مقابلہ کیا جا سکے۔
آئی جی اسلام آباد نے اس نفری کی نقل و حرکت اور لاجسٹک سپورٹ کے لیے فوری احکامات جاری کر دیے ہیں۔
پولیس کا یہ خصوصی سیکیورٹی پلان نہ صرف مظاہروں کے دوران نظم و ضبط برقرار رکھے گا بلکہ عوامی جان و مال کے تحفظ کو بھی یقینی بنائے گا تاکہ خطے میں حالات کو معمول کے مطابق رکھا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ امن و امان کی بحالی کے لیے تمام ضروری وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ اسلام آباد پولیس کی یہ نفری آزاد کشمیر کے مختلف حساس مقامات پر تعینات کی جائے گی تاکہ احتجاج کے دوران کسی بھی قسم کی شر پسندی یا قانون شکنی کے واقعات کا سدِ باب کیا جا سکے۔