اسلام آباد: حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی تیاری کے لیے امریکی ڈالر کی شرح تبادلہ 290 روپے مقرر کر دی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزارتِ خزانہ نے تمام متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنز کو مراسلہ جاری کرتے ہوئے بجٹ تخمینے اسی شرح پر بنانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
یہ فیصلہ بیرونی قرضوں، گرانٹس کی ادائیگی اور ترقیاتی منصوبوں کے مالیاتی تخمینوں کو حتمی شکل دینے کے لیے کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ شرح دفاعی بجٹ کے اس حصے کے لیے بھی استعمال ہو گی جو بیرونِ ملک سازوسامان کی خریداری پر خرچ کیا جاتا ہے۔
ملک کے بیرونِ ملک قائم سفارتی مشنز اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے بھی یہی شرح بنیاد ہو گی۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں آئندہ مالی سال کے دوران ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 3.2 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضے حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق یہ رقم قومی ترقیاتی بجٹ کا تقریباً 22 فیصد بنتی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترقیاتی اخراجات کے لیے بیرونی قرض دہندگان پر انحصار بدستور برقرار ہے۔
واضح رہے کہ حکومت نے 10 جون کو بجٹ پیش کرنے کی تجویز دی ہے جس کی حتمی منظوری وزیراعظم دیں گے۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0.7 فیصد یعنی 3.6 ارب ڈالر تک رہنے کا تخمینہ لگایا ہے۔ دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف نے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بیرونی مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے حوالے سے معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔
وزارتِ خزانہ نے وزیراعظم کو یقین دلایا کہ ملک کی بیرونی مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے شرح مبادلہ میں لچک کو بیرونی جھٹکوں سے نمٹنے کے لیے ایک اہم ذریعہ قرار دیا ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسٹیٹ بینک مارکیٹ سے ڈالر کی خریداری بند کر دے تو روپے کی قدر مزید مستحکم ہو سکتی ہے۔ موجودہ مالی سال کے لیے حکومت نے نظر ثانی شدہ تخمینے 280 روپے فی ڈالر کے حساب سے مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔