شیو سینا (یو بی ٹی) کے راجیہ سبھا رکن سنجے راؤت نے بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شراف پر ہوئے حملے کو لے کر مہاراشٹر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ دیویندر فڑنویس پر ریاست میں لا اینڈ آرڈر برقرار رکھنے میں ناکام رہنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اس ریاست کے وزیر داخلہ بھی ہیں۔ وزیر داخلہ ہونے کی وجہ سے لا اینڈ آرڈر برقرار رکھنے کی ذمہ داری دیویندر فڑنویس کی ہے۔‘‘
سنجے راؤت نے مزید کہا کہ ’’مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے حملے کو روکیں۔ ممبئی میں ہم نے کئی چونکا دینے والے واقعات دیکھے ہیں، جن میں سلمان خان پر حملہ، بابا صدیقی کا قتل اور ٹھانے میں ہمارے شیو سینا کارکن کا قتل شامل ہے۔ کل ہی ٹائیگر شراف پر گولیاں چلائی گئیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’یہ جنگل راج (لاقانونیت) ہے۔ جب ایسی صورتحال ہو تو حکومت کو برخاست کر دینا چاہیے اور صدر راج نافذ کر دینا چاہیے۔ مہاراشٹر میں حالات وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے کنٹرول سے پوری طرح باہر ہو گئے ہیں۔ اب روزانہ قتل ہو رہے ہیں، جبراً وصولی ہو رہی ہے اور اغوا کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کیا کر رہے ہیں؟ آپ وزیر اعلیٰ ہیں اس لیے یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔‘‘
راجیہ سبھا رکن سنجے راؤت نے بی جے پی حکومت پر مافیا گینگ کی حمایت کا بھی الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’مجھے ڈر ہے کہ آنے والے دنوں میں سیاسی مخالفین پر حملہ کروائیں گے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور دیویندر فڑنویس کے دور حکومت میں قانون کا ڈر ختم ہو گیا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھیں :
واضح رہے کہ بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شراف پر فائرنگ کا واقعہ 18 اکتوبر کی شام تقریباً 7 بجے پیش آیا، جب ٹائیگر شراف ممبئی کے جوہو علاقے میں فٹ بال گراؤنڈ سے گاڑی میں واپس جا رہے تھے۔ پولیس نے بتایا کہ حملہ آوروں نے پستول سے گاڑی پر فائرنگ کی، جس میں ڈرائیور زخمی ہو گیا۔ فائرنگ کے دوران وہاں موجود ایک اور شخص کو بھی گولی لگی۔ ممبئی پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ جب شوٹر فائرنگ کر رہے تھے، اس وقت اداکار ٹائیگر کو سنبھلنے کے لیے کچھ وقت ملا اور وہ آگے کی جانب جھک گئے۔ اسی وجہ سے انہیں گولی نہیں لگی۔ حالانکہ شیشے کا ایک ٹکڑا انہیں لگا، جس کی وجہ سے وہ زخمی ہو گئے۔