سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے 22 اکتوبر کو سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان سے رامپور جیل میں ملاقات کی۔ اس کے بعد سماجوادی پارٹی کے سربراہ اعظم خان کے گھر بھی گئے اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ اکھلیش سے ملاقات کے بارے میں جب کچھ میڈیا اہلکاروں نے اعظم خان کی اہلیہ ڈاکٹر تزئین فاطمہ سے سوال کیا، تو انھوں نے اسے خاندانی ملاقات قرار دیا اور کہا کہ ’’اکھلیش یادو کو اعظم خان اپنی اولاد کی طرح مانتے ہیں۔‘‘
سماجوادی پارٹی کے سربراہ سے ملاقات کے بعد اعظم خان کی اہلیہ ڈاکٹر تزئین فاطمہ نے دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کے بارے میں میڈیا کو مختصراً جانکاری دی۔ انہوں نے کہا کہ ’’اکھلیش جی سے میری بالکل خاندانی گفتگو ہوئی، کسی طرح کی کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی۔ ہمارا خاندان جن مشکلات سے گزر رہا ہے، انہوں نے ہم سے ان تمام باتوں پر گفتگو کی۔‘‘ اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے متعلق سوال کیے جانے پر انہوں نے کہا کہ ’’ٹکٹ کے سلسلے میں میری کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ میں پہلے بھی کہہ چکی ہوں کہ اکھلیش کو اعظم خان اپنی اولاد کی طرح مانتے ہیں اور کسی طرح کے اختلافات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’جہاں تک ٹکٹ کی بات ہے تو پارٹی جیسا مناسب سمجھے گی، ویسا فیصلہ لے گی۔ ظاہر ہے کہ ہر شخص سے رائے مشورہ کیا جاتا ہے۔ اعظم خان سے بھی مشورہ لیا جائے گا اور اکھلیش جی ان کے مشورے کے بغیر کوئی کام نہیں کرتے ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ جمعرات کو اکھلیش یادو نے رامپور جیل میں اعظم خان سے ملاقات کی تھی۔ دونوں کے درمیان تقریباً ایک گھنٹے تک بات چیت ہوئی۔ جیل سے باہر آنے کے بعد سماجوادی پارٹی کے صدر نے کہا تھا کہ ’’اعظم خان سے ان کا رشتہ سیاسی نہیں، بلکہ جذباتی ہے۔ وہ ہمارے دل سے جڑے ہوئے ہیں۔‘‘ اس دوران انہوں نے بی جے پی پر سخت تنقید کی اور اعظم خان کے خاندان کے ساتھ ناانصافی کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ اکھلیش یادو اور اعظم خان کی ملاقات کے بعد اتر پردیش کی سیاست میں ایک نئی ہلچل دیکھنے کو مل رہی ہے۔ خاص طور سے 2027 میں ہونے والے ریاستی اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اس ملاقات کو بہت اہم تصور کیا جا رہا ہے۔