سعودی عرب کی عدم شمولیت کی ایک ممکنہ وجہ دفاعی ذمہ داریوں اور مالی وسائل کی تقسیم ہو سکتی ہے
مکہ معاہدے کے بعد بدر دفاعی تعاون کی بحث،سعودی عرب کی عدم شمولیت پر سوالات
اس حوالے سے پیش کیے جانے والے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ مشترکہ دفاعی تعاون کے لیے صرف فوجی طاقت کافی نہیں، بلکہ دفاعی صنعت، جدید ٹیکنالوجی، اسلحے کی مسلسل فراہمی اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری بھی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان اور ترکی کی دفاعی صلاحیتوں کو قطر کے مالی وسائل اور انڈونیشیا کی صنعتی استعداد سے جوڑنے کا تصور اسی تناظر میں بیان کیا جا رہا ہے۔
تجزیے کے مطابق سعودی عرب کی عدم شمولیت کی ایک ممکنہ وجہ دفاعی ذمہ داریوں اور مالی وسائل کی تقسیم ہو سکتی ہے۔ تاہم سعودی عرب کے اس مبینہ معاہدے میں شامل نہ ہونے کی سرکاری وجہ سامنے آنے کے بغیر اسے حتمی مؤقف قرار نہیں دیا جا سکتا۔
سعودی عرب اپنے وژن 2030 کے تحت دفاعی سازوسامان کی مقامی پیداوار بڑھانے کا ہدف رکھتا ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد دفاعی شعبے میں خود انحصاری کو فروغ دینا اور بیرونی سپلائرز پر انحصار کم کرنا ہے۔
دفاعی تعاون کے ایسے کسی بھی منصوبے کی کامیابی کا انحصار مشترکہ پیداوار، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور عملی معاہدوں پر ہوگا۔ تاہم ’بدر معاہدے‘ کی حیثیت، اس میں شامل ممالک اور قطر کی جانب سے فنڈنگ سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
کیا مسلم ممالک دفاعی صنعت میں مشترکہ سرمایہ کاری کے ذریعے اسلحے کی درآمد پر انحصار کم کر سکتے ہیں؟ یہ سوال علاقائی دفاعی تعاون کے مستقبل میں اہمیت رکھتا ہے۔