آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئسا) کی صدر نیہا بورا نے دہلی ہائی کورٹ میں اسپیشل ایگزیکٹیو مجسٹریٹ (ایس ای ایم) کے اس نوٹس کو چیلنج کیا تھا، جس میں 10 ہزار روپے کا بانڈ بھرنے اور امن برقرار رکھنے کو کہا گیا تھا۔ عدالت نے ان کی عرضی جمعہ (23 اکتوبر) کو خارج کر دی تھی۔ دوسری جانب اب نیہا بورا نے کہا ہے کہ وہ ’پیس بانڈ‘ پر دستخط نہیں کریں گی۔ نیہا بورا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس بانڈ پر دستخط کرنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ اس ملک میں کسی جمہوری اور پرامن احتجاج کو روکنے کے لیے اس ’پیس بانڈ‘ کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘‘
نیہا بورا نے مزید کہا کہ ہندوستان جیسے بڑے ملک میں عام لوگ جمہوریت کو 2 اہم حقوق کے طور پر سمجھتے ہیں۔ ان میں پہلا ووٹ دینے کا حق ہے اور دوسرا اپنے حقوق پر حملہ ہونے کی صورت میں اس کے خلاف آواز اٹھانے کا حق۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ووٹ دینے کے حق پر اتنا بڑا حملہ ہو رہا ہے، تو اس کے خلاف سڑکوں پر اترنا صرف ذمہ داری نہیں بلکہ شہری ہونے کے ناطے ہمارا فرض بھی ہے۔ نیہا بورا نے یہ بھی کہا کہ جب جمہوریت میں عام لوگوں سے ووٹ دینے کا حق چھینا گیا، تو ہم سڑکوں پر اترے۔ آپ نے وہ تمام احتجاج دیکھے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :
نیہا بورا نے کہا کہ لا اینڈ آرڈر برقرار رکھنے کے بجائے ہم نے لاٹھیوں اور ڈنڈوں کا استعمال ہوتے دیکھا۔ خواتین کے کپڑے پھاڑے گئے۔ اس پورے عمل کے دوران صحافیوں کو بھی پولیس اور دیگر سیکورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں جس تشدد کا سامنا کرنا پڑا، اس کے بارے میں آپ لوگ بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک نوٹس ملا، جس میں لکھا تھا کہ پولیس کے پاس ایسی معلومات ہیں کہ آپ امن میں خلل ڈال سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی بھی ایف آئی آر کی کاپی نہیں دی گئی۔ ہمیں صرف اتنا کہا گیا کہ آپ امن میں خلل ڈالیں گے۔