’مہاراشٹر ایس آئی آر میں 33 فیصد نام حذف ہوئے‘، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو بھیجا نوٹس

مہاراشٹر میں جاری ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) میں بے ضابطگیوں کا سوال اٹھانے والی عرضی پر سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ اب اس معاملے پر 5 نومبر کو سماعت ہوگی۔ عرضی گزار نے 6 نومبر کو حتمی فہرست کی اشاعت کا حوالہ دیتے ہوئے اس سے پہلے سماعت کی درخواست کی تھی۔

چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ کے سامنے عرضی گزار نے کہا کہ ایس آئی آر کی ڈرافٹ لسٹ سے 33 فیصد نام حذف کر دیے گئے ہیں۔ بڑی تعداد میں لوگوں کو منطقی تضادات سے متعلق نوٹس بھیجے گئے ہیں۔ اپنا نام شامل کرانے کے لیے درخواست دینے کی آج آخری تاریخ ہے۔ عدالت نے جواب میں کہا کہ اگر ضروری ہوا تو تاریخ میں توسیع کرنے پر غور کیا جائے گا۔

عرضی گزار ارون آنندگیری کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل اروند پی داتار نے بتایا کہ ریاست کے 9 کروڑ ووٹروں میں سے تقریباً 3 کروڑ ووٹروں کے نام ڈرافٹ ووٹر لسٹ جاری ہونے کے بعد حذف کر دیے گئے ہیں۔ داتار نے کہا کہ الیکشن کمیشن ان ووٹروں سے نئے سرے سے اندراج کے لیے ’فارم 6‘ بھرنے کو کہہ رہا ہے، جن کے نام حذف کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’فارم 6‘ پہلی بار ووٹ ڈالنے والوں کے لیے ہوتا ہے اور جو لوگ پہلے ووٹ ڈال چکے ہیں، ان سے یہ فارم بھرنے کے لیے نہیں کہا جا سکتا۔

اروند داتار نے بنچ کو بتایا کہ ممبئی اور پونے میں تقریباً 3500 ازسرنو ترقیاتی منصوبے چل رہے ہیں۔ ان کے تحت پرانی رہائشی کالونیوں کو منہدم کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کو دوسری جگہ منتقل ہونا پڑ رہا ہے۔ ایسے میں پتے اور دیگر معلومات دستیاب نہ ہونے کے باعث ان کے نام ووٹر فہرست سے حذف ہونے کا خطرہ ہے۔ عرضی گزار نے درخواست کی کہ جب تک عدالت اس معاملے کی سماعت نہیں کر لیتی، تب تک ووٹر لسٹ کو حتمی شکل دینے کے عمل پر روک لگائی جائے۔

سماعت کے دوران عدالت نے آج آخری تاریخ میں توسیع کرنے سے انکار کر دیا، لیکن وکیل کو یقین دلایا کہ وہ جلد ہی اس معاملے کی سماعت کرے گی۔ اگر عدالت کو لگا کہ وقت بڑھانے کی ضرورت ہے تو وہ مناسب ہدایات جاری کرے گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ’’فکر نہ کریں۔ آپ ایک ایسے شخص ہیں جو معاملے کو سامنے لائے ہیں۔ آپ ہمارے پاس آئے ہیں، اس لیے بے فکر رہیں۔ اگر ہمیں لگتا ہے کہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے ابھی تک اپنے دستاویزات جمع نہیں کرائے ہیں، تو ہم وقت ضرور بڑھائیں گے۔ ہم اس سے پہلے بھی ایس آئی آر کے معاملات میں تاریخوں میں توسیع کر چکے ہیں۔‘‘

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں