تہران میں ہونے والی ملاقات وزارتِ دفاع سے متعلق نہیں تھی وہاںسعودی وفد اور ترکی کے انٹیلی جنس چیف کی موجودگی تھی
فیلڈ مارشل خطے میں امن کے لیے تہران گئے، کوئی دفاعی معاہدہ زیرِ بحث نہیں تھا، خواجہ آصف
اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر خطے میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کے فروغ کے لیے تہران گئے تھے، وہاں کسی دفاعی معاہدے پر بات چیت نہیں ہو رہی تھی، اس لیے ان کی موجودگی ضروری نہیں تھی۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے گزشتہ سال کامیابی کے بعد بھی مذاکرات اور خطے میں امن کے قیام کے لیے کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق تہران کا دورہ بھی اسی سفارتی کوشش کا حصہ تھا۔
وزیر دفاع نے وضاحت کی کہ تہران میں ہونے والی ملاقات وزارتِ دفاع سے متعلق نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں سعودی وزیر دفاع کے بجائے سعودی وفد اور ترکی کے انٹیلی جنس چیف کی موجودگی تھی، جبکہ کسی متعلقہ دفاعی معاہدے پر بات نہیں ہو رہی تھی۔
خواجہ آصف نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی تنقید کا احترام کرتے ہیں، تاہم سیاسی اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور فیلڈ مارشل کے سفارتی کردار کو عالمی سطح پر سراہا جانا چاہیے۔
وزیر دفاع نے ماضی کی سیاست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی سابقہ غلطیوں پر معذرت کر چکے ہیں اور جب ہائبرڈ نظام پر بات کرتے ہیں تو انہیں اپنی پرانی تقاریر یاد آتی ہیں۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کو بھی مشورہ دیا کہ دوسروں پر تنقید کرتے وقت اپنے سیاسی ماضی کو سامنے رکھیں۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان پاکستان کی سیاست میں اہم مقام رکھتے ہیں اور ان کی تقریر تحمل سے سنی گئی، تاہم سیاسی اختلافات اور اعتراضات جمہوری عمل کا حصہ ہیں۔
انہوں نے پی ٹی آئی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات کے باوجود قومی معاملات میں تعاون کی اہمیت کو تسلیم کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں مولانا فضل الرحمان دس سال تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے، اس لیے ان کے دور میں کشمیر کے معاملے پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ بھی لیا جانا چاہیے۔
وزیر دفاع کی تقریر کے دوران قومی اسمبلی میں شور شرابا بھی ہوا، جس کے باعث کچھ دیر کے لیے کارروائی متاثر ہوئی، تاہم بعد ازاں انہیں دوبارہ اظہارِ خیال کا موقع دیا گیا۔