جموں و کشمیر کی نئی میڈیا پالیسی میں فیس بک اور انسٹاگرام بھی شامل ہوں گے: ڈائریکٹر انفارمیشن

سری نگر/ڈائریکٹر انفارمیشن ممتا یادو نے جمعرات کو کہا کہ جموں و کشمیر کی نئی میڈیا پالیسی کو جلد حتمی شکل دیے جانے کی توقع ہے، جبکہ اس وقت پالیسی کا مسودہ زیرِ غور ہے۔ مجوزہ پالیسی میں فیس بک اور انسٹاگرام جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی شامل کرنے کی تجویز ہے۔
ممتا یادو نے کہا کہ مسودے کی جانچ کے دوران اٹھائے گئے سوالات کا محکمہ انفارمیشن کی جانب سے مسلسل جواب دیا جا رہا ہے اور امید ہے کہ پالیسی کو جلد از جلد حتمی شکل دے دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی پالیسی کی تیاری کے لیے ایک مقررہ طریقۂ کار ہوتا ہے۔ ان کے مطابق، ’’ہم نے پالیسی کا مسودہ بھیج دیا ہے اور اس سلسلے میں جو سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، ان کے جوابات مسلسل فراہم کیے جا رہے ہیں۔‘‘
ممتا یادو نے کہا کہ مجوزہ پالیسی میں ان پہلوؤں کو بھی شامل کیا جائے گا جو موجودہ پالیسی کے دائرے میں نہیں آتے، بالخصوص ابلاغ اور عوامی رابطہ مہمات میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے کردار کو مدنظر رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا کا دائرہ کافی وسیع ہو چکا ہے اور انسٹاگرام و فیس بک جیسے پلیٹ فارمز کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے، اسی لیے ان پہلوؤں کو نئی میڈیا پالیسی میں شامل کیا گیا ہے۔
مجوزہ پالیسی ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے حالیہ خزاں اجلاس کے دوران غیر منظم سوشل میڈیا نیوز پلیٹ فارمز، آن لائن ٹرولنگ اور گمراہ کن مواد کی تشہیر کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بحث ہوئی تھی۔

30 ستمبر 2026 کو وزیر تعلیم و صحت سکینہ ایتو نے اسمبلی کو بتایا تھا کہ حکومت نئی میڈیا پالیسی تیار کرنے پر کام کر رہی ہے اور محکمہ انفارمیشن کو اس سلسلے میں رہنما خطوط مرتب کرنے کے لیے چار ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔
یہ معاملہ نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی بشیر احمد شاہ ویری نے اٹھایا تھا، جنہوں نے سوشل میڈیا کے مبینہ غلط استعمال اور عوامی نمائندوں کے خلاف آن لائن حملوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔
بحث کے دوران متعدد ارکان اسمبلی نے سوشل میڈیا کے لیے ایک مؤثر ضابطۂ کار وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا، تاہم بعض ارکان نے خبردار کیا کہ اس عمل میں ایسی پابندیاں عائد نہیں کی جانی چاہئیں جو صحافتی آزادی کو متاثر کریں۔
وزیر سکینہ ایتو نے کہا تھا کہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال کے لیے سیاست دان صرف میڈیا کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے، کیونکہ سیاسی شخصیات بھی اس مسئلے میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے آن لائن پلیٹ فارمز پر شائع اور گردش کرنے والے مواد کے حوالے سے زیادہ جواب دہی یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں