بی جے پی کا ’آپریشن لوٹس‘ کامیاب، آغا روح اللہ کو نیشنل کانفرنس سے باہر کرنے میں کامیابی ملی: سلمان ساگر

نیشنل کانفرنس کسی ایک فرد کی محتاج نہیں،روح اللہ کی علیحدگی سے پارٹی کمزور نہیں ہوگی: سجاد شاہین

سری نگر/نیشنل کانفرنس کے رکنِ اسمبلی سلمان علی ساگر نے بدھ کے روز الزام عائد کیا کہ بی جے پی اپنے مبینہ ’آپریشن لوٹس‘ میں کامیاب ہوگئی ہے اور اس نے سری نگر کے رکنِ پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی کو نیشنل کانفرنس سے الگ ہونے پر مجبور کیا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس پیش رفت سے نیشنل کانفرنس کمزور نہیں ہوگی۔
پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح میں بانہال کے رکنِ اسمبلی سجاد شاہین کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سلمان ساگر نے کہا کہ آغا روح اللہ کو جمہوری طور پر پارٹی قیادت سے اختلاف کرنے اور سوالات اٹھانے کا پورا حق حاصل تھا، تاہم انہیں اپنے تحفظات پارٹی کے اندرونی فورمز پر اٹھانے چاہئیں تھے۔سلمان ساگر نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ایک جمہوری تنظیم ہے، جہاں ہر رکن کو اپنی بات رکھنے، سوالات اٹھانے اور آزادانہ فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے، تاہم پارٹی قیادت کے خلاف روح اللہ کی جانب سے استعمال کی گئی زبان افسوسناک تھی۔انہوں نے کہا، ’’میرا ماننا ہے کہ بی جے پی اپنے آپریشن لوٹس میں کامیاب ہوگئی ہے، بالخصوص آغا روح اللہ صاحب کو نیشنل کانفرنس سے باہر کرنے میں۔‘‘
سلمان ساگر نے الزام لگایا کہ بی جے پی ایک طویل عرصے سے نیشنل کانفرنس کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور حالیہ پیش رفت سے کشمیر میں اس کے سیاسی مفادات کو فائدہ پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں میں بی جے پی کے سیاسی فوائد اور آغا روح اللہ کے فیصلے سے پیدا ہونے والی صورتحال کو وسیع تر سیاسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
روح اللہ کے پارٹی کے ساتھ رابطوں پر سوال اٹھاتے ہوئے سلمان ساگر نے کہا کہ رکنِ پارلیمان نے نہ تو باقاعدگی سے پارٹی ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا اور نہ ہی پارٹی اجلاسوں میں شرکت کی۔ ان کے مطابق اتنا بڑا فیصلہ لینے سے قبل روح اللہ کو ارکانِ اسمبلی اور پارٹی کے دیگر ذمہ داران کے ساتھ رابطہ قائم کرنا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا تھا اور یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا روح اللہ نے فیصلہ لینے سے پہلے پارٹی کے ارکانِ اسمبلی سے مناسب طور پر رابطہ کیا تھا۔
نیشنل کانفرنس کے اندر کمزوری پیدا ہونے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے سلمان ساگر نے کہا کہ پارٹی کی طاقت کسی ایک فرد پر منحصر نہیں بلکہ اجتماعی قیادت اور عوام کی جانب سے دیے گئے مینڈیٹ میں مضمر ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام نے نیشنل کانفرنس کو ایک مخصوص برادری کی سیاسی بے اختیاری کو روکنے کے لیے اقتدار سونپا تھا، نہ کہ کسی ایک رہنما کی وجہ سے۔
دفعہ 370 اور 35 اے کے حوالے سے پارٹی کے مؤقف کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کا بنیادی سیاسی موقف آج بھی برقرار ہے اور اسے کسی ایک رہنما کے ساتھ اختلافات سے جوڑ کر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔سلمان ساگر نے کہا کہ سیاسی مقبولیت اور عوامی حمایت کے دعوؤں کی حقیقت کا فیصلہ آنے والے انتخابات میں ہوگا، کیونکہ کوئی بھی فرد خود کو عوام کا واحد نمائندہ قرار نہیں دے سکتا۔انہوں نے پارٹی کی تاریخی جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے آغا روح اللہ کی جانب سے شہداء، بالخصوص 13 جولائی کے شہداء کو یاد کرنے اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے۔
سلمان ساگر نے مزید کہا کہ موجودہ اختلافات کی وجہ انا کا تصادم بھی ہو سکتی ہے، تاہم آنے والے دنوں میں اس معاملے کے پس پردہ حالات مزید واضح ہو جائیں گے۔
اس موقع پر بانہال کے رکنِ اسمبلی سجاد شاہین نے اس پوری پیش رفت کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فرد کو جمہوری طور پر آزادانہ فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے تاہم اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ یہ معاملہ جس انداز میں سامنے آیا، وہ مناسب نہیں تھا۔دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ نیشنل کانفرنس مضبوط ہے اور پارٹی کے سیاسی مستقبل یا اس کی طاقت کا تعین کسی ایک فرد کے فیصلے سے نہیں کیا جا سکتا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں