اگنی ویر اسکیم میں تبدیلی حکومت کی غلطی کا اعتراف، راہل گاندھی کی باتیں درست ثابت ہوئیں: سچن پائلٹ

جے پور: آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری سچن پائلٹ نے اگنی ویر اسکیم میں تبدیلیوں پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ راہل گاندھی کے خدشات درست ثابت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کا الزام بھی لگایا۔ پائلٹ نے بے روزگاری، کسانوں کے مسائل اور پنجاب میں منشیات کے بحران کے حوالے سے بھی بی جے پی کو نشانہ بنایا، جبکہ مرکزی وزیر کرن رجیجو کے تبصروں پر راہل گاندھی کا دفاع کیا۔

میڈیا سے گفتگو میں پائلٹ نے جمعرات کو کہا کہ اگنی ویر اسکیم میں حکومت کی حالیہ تبدیلی پہلے کیے گئے فیصلوں سے پیچھے ہٹنے کی ایک اور مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نے پہلے ہی اسکیم کے ممکنہ اثرات پر تشویش ظاہر کی تھی اور اب حکومت کے فیصلوں سے ان کی باتوں کی تصدیق ہو رہی ہے۔ پائلٹ نے زرعی قوانین کی واپسی اور مردم شماری سے متعلق حکومت کے موقف میں تبدیلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو کئی اہم معاملات پر اپنا فیصلہ بدلنا پڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس ابتدا ہی سے اگنی ویر اسکیم کی مخالفت کرتی آئی ہے۔ پائلٹ کے مطابق، 4 سال بعد فوج سے باہر ہونے والے نوجوان خود کو غیر محفوظ اور بے سمت محسوس کر سکتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب پہلے مستقل بھرتی کا نظام موجود تھا تو یہ اسکیم کیوں لائی گئی اور اب بھرتی کے تناسب میں مجوزہ تبدیلی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان بے روزگاری اور کسان پریشانیوں سے دوچار ہیں، لیکن حکومت اہم مسائل پر سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی۔

یہ بھی پڑھیں :

پنجاب میں منشیات کے معاملے پر پائلٹ نے بی جے پی کے دعووں پر سوال اٹھایا کہ اگر پارٹی مرکز میں 12 برس سے اقتدار میں ہے تو اس نے سرحد پار سے منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے؟ انہوں نے کہا کہ انتخابات قریب آنے پر بی جے پی پنجاب میں اپنی سیاسی جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پائلٹ نے کہا کہ عوام بی جے پی سے مایوس ہو چکے ہیں اور تبدیلی چاہتے ہیں۔

فارم 6 اور انتخابی فہرستوں کے معاملے پر پائلٹ نے کہا کہ تبدیلیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ حکومت اور الیکشن کمیشن اپنے سابقہ فیصلوں میں اصلاح کر رہے ہیں۔ انہوں نے ووٹر فہرستوں سے نام خارج کیے جانے پر سوال اٹھایا اور کہا کہ انتخابی عمل میں شہریوں کے حقوق متاثر ہوئے ہیں۔ پائلٹ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور کمیشن کے کردار پر بھی تنقید کی اور کہا کہ بعد میں کی جانے والی اصلاحات سے پہلے ہونے والے نقصان کا ازالہ نہیں ہو سکتا۔

یہ بھی پڑھیں :

بی جے پی کی ’جمہوریت بچاؤ، افراتفری ہٹاؤ‘ ریلی کے بارے میں پائلٹ نے کہا کہ حکمراں جماعت کا خود جمہوریت بچانے کے لیے مظاہرہ کرنا تضاد ہے۔ انہوں نے تحقیقاتی ایجنسیوں کے مبینہ غلط استعمال کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ہر شہری کو آزادانہ اور منصفانہ طور پر ووٹ دینے کا حق ملنا چاہیے۔

پنجاب کی سیاست پر انہوں نے عام آدمی پارٹی کو ریاست کے لیے نقصان دہ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ عوام کا اس پر اعتماد کم ہو رہا ہے۔ کرن رجیجو کے بیان پر پائلٹ نے کہا کہ انہیں راہل گاندھی کو مشورہ دینے کے بجائے اپنی حکومت اور قیادت کو ملک کے مسائل پر توجہ دینے کا مشورہ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی تکلیف کو سمجھنے اور ان کے مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں