جموں/حکومتِ جموں و کشمیر نے نجی یونیورسٹیوں کے قیام سے متعلق قواعد 2026 نوٹیفائی کر دیے ہیں، جس سے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں قومی اور بین الاقوامی سطح کے معروف تعلیمی اداروں کے قیام کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس اقدام کو اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو مضبوط بنانے اور نوجوانوں کے لیے مزید مواقع پیدا کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔
وزیر اعلیٰ کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ نئے قواعد کے تحت منظوری کے عمل کو آسان بنایا گیا ہے۔ داخلوں اور ملازمتوں میں جموں و کشمیر کے مستقل باشندوں کے لیے 25 فیصد ریزرویشن رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نجی یونیورسٹیوں کی نگرانی کے لیے مؤثر نظام قائم کیا گیا ہے اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ ان قواعد کا مقصد شفافیت، جواب دہی اور تعلیمی معیار کو یقینی بنانا ہے۔
عمر عبداللہ نے ان قواعد کو نوٹیفائی کرنے پر وزیر تعلیم شمیم فردوس کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام جموں و کشمیر میں قومی اور بین الاقوامی سطح کے معروف اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام کو ممکن بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نیا نظام تعلیمی اداروں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے گا، مقامی نوجوانوں کے لیے تعلیم اور روزگار کے مواقع بڑھائے گا اور تدریس، تحقیق اور جدت کے شعبوں میں معیار کو بہتر بنانے میں مدد دے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس اقدام سے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM)، میڈیکل، قانون، کاروباری تعلیم اور لبرل آرٹس سمیت مختلف شعبوں میں تعلیمی اداروں کے قیام کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد جموں و کشمیر کے طلبہ کو اپنے ہی علاقے میں معیاری اعلیٰ تعلیم کی سہولت فراہم کرنا اور خطے کو اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے لیے ایک مسابقتی مرکز کے طور پر ترقی دینا ہے۔