حکومت کا چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کیلئے 300 ارب روپے مختص کرنے کا فیصلہ

اہم معاشی فیصلہ، وزیراعظم نے شرط ختم کردی، آسان قرضے فراہم کیے جائیں گے۔

November 7, 2026 · اہم خبریں

وزیر اعظم شہباز شریف چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری طبقے کے اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری طبقے کے اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) حکومت نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کیلئے 300 ارب روپے کی ایکسپورٹ فنانس اسکیم مختص کردی ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق اب اس اسکیم کے تحت صرف ایس ایم ایز قرض حاصل کرسکیں گے جبکہ زرعی شعبے سے وابستہ اہل کاروبار بھی اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں گے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی برآمدات بڑھانے اور انہیں آسان قرضوں کی فراہمی کیلئے یہ ایک اہم حکومتی قدم ہے۔

سرکاری دستاویزات اور بریفنگ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت برآمدات کرنے والے ایس ایم ایز کو سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں نائب وزیراعظم، وفاقی وزرا، گورنر اسٹیٹ بینک اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیراعظم نے چھوٹے کاروباری افراد کی ترقی کیلیے حکومتی سرپرستی اور سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے طویل المدتی فنانسنگ کی سہولت کیلیے 80 فیصد برآمدات کی شرط ختم کرنے کی ہدایت کی۔

بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پاکستان میں برآمدات سے وابستہ ایس ایم ایز کی تعداد تقریباً 17000 ہے جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے یکم نومبر سے ایس ایم ای سیکٹر کیلئے قرضوں تک آسان رسائی کے پورٹل کے اجرا کے بعد 10000 سے زیادہ درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ ایکسپورٹ فنانس اسکیم میں ایس ایم ای سیکٹر اور نئے ایکسپورٹرز کیلئے 300 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ طویل مدتی ترقیاتی فنانسنگ فیسلٹی کیلئے اس سال 350 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

وزارت خزانہ کے مطابق ایگزم بینک نے شریک کمرشل بینکوں کو نئی پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کر دی ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ ایس ایم ایز اور برآمد کنندگان کے لیے رعایتی فنانسنگ اسکیم پر کسی بھی بینک کو عمل درآمد سے انحراف کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومتی اقدام کا بنیادی مقصد چھوٹے کاروباروں کی برآمدات میں اضافہ اور انہیں آسان قرضوں کی سہولت فراہم کرنا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں