لاہور —
پاکستان کے سابق وزير اعظم نواز شریف کی طبیعت ميں بہتري آنا شروع ہو گئی ہے جبکہ ان کے جسم میں پلیٹ ليٹس بڑھ کر 20ہزار ہو گئے۔
مرض کي مزيد تشخيص کے ليے کڈنی اينڈ ليور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹيوٹ منتقلی کا فيصلہ فی الحال روک ديا گيا ہے۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف کے علاج کے لیے قائم کردہ میڈیکل بورڈ نے اُن کے آج جمعرات کو دوبارہ ٹيسٹ کيے۔ سی بی سی رپورٹ حوصلہ افزا آنے پر بورڈ نے خليوں کی ٹوٹ پھوٹ کی مزيد تشخيص کے لیے پی کے ايل آئی منتقل نہ کرنے کا فيصلہ کيا۔
نواز شریف کو پلیٹ لیٹس انتہائی کم ہونے کی وجہ سے تین میگا یونٹس پلیٹ لیٹس لگائے گئے جب کہ ان کے علاج و معالجے کے لیے ایک ڈاکٹر اسلام آباد اور ایک کراچی سے بلایا گیا ہے۔
میڈیکل بورڈ
نواز شریف کا علاج کرنے کے لیے کراچی سے لاہور بھیجے گئے ڈاکٹر طاہر شمسی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف کی صحت بہتر ہو رہی ہے اور اُنہیں امید ہے کہ آئندہ چھ سے سات دن میں وہ مکمل صحت یاب ہو جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی ایسی کوئی تشخیص نہیں ہوئی کہ جس میں بون میرو ٹرانسپلانٹ کرانے کا فیصلہ کیا جائے۔
ڈاکٹر طاہر شمسی نے وائس آف امریکہ کے نمائندے اصفر امام کو بتایا ہے کہ نواز شریف کے ڈینگی اور ملیریہ کے ٹیسٹ بھی منفی آئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف کے پلیٹ لیٹس میں کمی آئی تھی جس کی جانچ کے لیے خون کے چار ٹیسٹ کیے گئے تھے۔
دوسری جانب میڈیکل بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر محمود اياز نے نواز شریف کی صحت کے حوالے سے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معائنے کے بعد نواز شریف کو آئی ٹی پی کی تشخیص ہوئی۔
ان کا کہنا تھاکہ علاج کے لیے انجکشن سے ادویات دینا شروع کر دی گئی ہيں۔ چار سے پانچ روز میں ان ادویات کے مثبت نتائج آئیں گے۔
ڈاکٹر محمود ایاز نے مزید کہا کہ ادویات کے استعمال سے نواز شریف کے پلیٹ لیٹس میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ نواز شریف کی اس بیماری کا علاج پاکستان ميں موجود ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نواز شریف کو دانت برش اور شیو کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
انہوں نے تصدیق کی کہ نواز شریف کو ٹیسٹ کے لیے پی کے ایل آئی لے جانا منسوخ کر دیا گیا ہے۔ پیٹ اسکين کا حتمی فیصلہ کی طبیعت کو دیکھ کر کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ نواز شریف بظاہر تندرست ہیں۔ کہیں سے بلیڈنگ نہیں ہو رہی۔ میگا یونٹس کے ذریعے لگائے پلیٹ لیٹس بیماری کے باعث ضائع ہو گئے۔ پلیٹ لیٹس کو برقرار رکھنے کی ادویات دی جا رہی ہیں۔
سابق وزیراعظم کے طبی معائنے کے لیے چھ رکنی میڈیکل بورڈ بنایا گیا ہے۔ جس کے سربراہ پمز کے پرنسپل پروفیسر محمود ایاز ہیں۔
بورڈ کے دیگر ارکان میں ڈاکٹر کامران خالد، ڈاکٹر عارف ندیم، ڈاکٹر فائزہ بشیر، ڈاکٹر خدیجہ عرفان اور ڈاکٹر ثوبیہ قاضی شامل ہیں۔
اہل خانہ
نواز شريف کی والدہ شميم بيگم اور بھائی شہباز شريف نے اسپتال ميں نواز شریف کی عيادت کی اور اِن کے ساتھ کئی گھنٹے گزارے۔
شہباز شریف نے نواز شریف کی صاحب زادی مریم نواز کو حکومت پنجاب نے خصوصی پیرول پر رہائی دی اور اُن کے والد سے بدھ اور جمعران کی درمیان شب ملاقات کرائی۔
والد کو اسپتال میں بیماری کی حالت میں دیکھ کر مریم نواز کی حالت بگڑ گئی اور انہیں بھی اسپتال میں داخل کیا گیا تاہم طبیعت بہتر ہونے پر ڈاکٹروں نے انہیں ڈسچارج کر دیا جس کے بعد جیل انتظامیہ نے مریم نواز کو دوبارہ اسپتال سے جیل منتقل کر دیا۔
ضمانت کی درخواست
وائس آف امریکہ کے نمائندے علی رانا کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں طبی بنیادوں پر سزا معطلی اور ضمانت کی درخواست پر چیف سیکریٹری، سیکریٹری داخلہ اور سروسز اسپتال کی ٹیم سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
نواز شریف کی سزا معطلی کے لیے درخواست شہباز شریف نے دائر کی تھی جس کی سماعت جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نواز شریف متعدد بیماریوں کی وجہ سے تکلیف میں ہیں۔ ان کی صحت شدید خراب ہے لہٰذا العزیزیہ ریفرنس میں سنائی گئی سزا معطل کی جائے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ نواز شریف کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ سروسز اسپتال کے ڈاکٹر ابھی تک ان کی بیماری کی تشخیص نہیں کر سکے ہیں۔ اس کیس میں اپیل پر فیصلہ ہونے تک نواز شریف کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔
سماعت کے موقع پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف کی زندگی کو سنگین خطرات لاحق ہیں لہٰذا نواز شریف کو ان کی مرضی کے مطابق ملک کے اندر یا بیرون ملک علاج کی اجازت دی جائے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم کی سزا معطلی کی درخواست پر چیف سیکریٹری، سیکریٹری داخلہ اور سروسز اسپتال کی ٹیم سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں جب کہ مزید عدالتی کارروائی کل تک کے لیے ملتوی کردی گئی ہے۔
حکومتی موقف
وزیر اعظم عمران خان نے سابق وزیر اعظم نوازشریف کی صحت سے متعلق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن وہ نواز شریف کی صحت کے لیے دل سے دعاگو ہوں۔
عمران خان کے مطابق تمام متعلقہ اداروں کو نوازشریف کو بہترین طبی سہولیات کی ہر ممکن فراہمی کی ہدایت کر دی ہے۔
وزیر اعظم نے نواز شریف کی صحت کے حوالے سے گزشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو فون کیا تھا جبکہ اُنہیں علاج کے لیے ہر بہتر سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
سابق وزیراعظم نواز شریف اِس وقت چوہدری شوگر ملز کیس میں نیب کی حراست میں ہیں جب کہ احتساب عدالت کی جانب سے انہیں العزیزیہ ریفرنس کیس میں سات سال قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔
العزیزیہ ریفرنس کیس میں وہ کوٹ لکھ پت جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں۔
نیب کی حراست کے دوران نواز شریف کی طبعیت 21 اکتوبر کو خراب ہو گئی تھی۔
ڈاکٹروں کے مطابق ان کے پلیٹ لیٹس میں اچانک غیر معمولی کمی ہوئی تھی اور وہ 12 ہزار تک آ گئے تھے۔ جس کے بعد اُنہیں سروسز اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی صحت بہتر ہوئی لیکن 23 اکتوبر کی رات دوبارہ پلیٹ لیٹس کی تعداد خطرناک حد تک گر گئی تھی۔