اسلام آباد: وفاقی حکومت نے اسلامک اور نیا پاکستان سرٹیفکیٹس پر 3 ماہ تا 5 سال کے لیے سرمایہ کاری کرنے کی صورت میں منافع کی شرح ڈیڑھ فیصد بڑھا دی۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق منافع کی شرح بڑھانے کے سلسلے میں وزارت خزانہ کے ایکسٹرنل فنانس ونگ کی جانب سے باضابطہ طور پر گزٹ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے، جس کے مطابق نیا پاکستان اور اسلامک سرٹیفکیٹس میں 3 ماہ کے لیے ایک ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری پرمنافع کی شرح بڑھا کر7 فیصد کردی گئی ہے۔
علاوہ ازیں دونوں (اسلامک اور نیا پاکستان) سرٹیفکیٹس میں 6 ماہ کے لیے ایک ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری پرمنافع کی شرح بڑھا کر7.20 فیصد ، 12 ماہ کے لیے اتنی ہی سرمایہ کاری پر 7.50 فیصد ،3 سال کے لیے اتنی ہی سرمایہ کاری کی صورت میں 8فیصد اور5 سال کے لیے ایک ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری پر بھی منافع بڑھا دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق نیا پاکستان اور اسلامک سرٹیفکیٹس میں پاکستانی کرنسی میں 3 ماہ کے لیے 10 ہزار روپے کی سرمایہ کاری پرمنافع کی شرح بڑھا کر15فیصد کردی گئی ہے جب کہ نیا پاکستان اور اسلامک سرٹیفکیٹس میں پاکستانی کرنسی میں 6 ماہ کے لیے 10 ہزار روپے کی سرمایہ کاری پرمنافع کی شرح بڑھا کر 15.25فیصد ، ایک سال کے لیے 10 ہزار روپے کی سرمایہ کاری پرمنافع کی شرح بڑھا کر15.50فیصد، 3 سال کے لیے 10 ہزار روپے کی سرمایہ کاری پرمنافع کی شرح بڑھا کر14فیصد اور 5 سال کے لیے 10 ہزار روپے سرمایہ کاری پرمنافع کی شرح بڑھا کر13.50فیصد کردی گئی ہے۔
علاوہ ازیں دونوں سرٹیفکیٹس میں 3 ماہ کے لیے ایک ہزار برطانوی پاؤنڈ کی سرمایہ کاری پرمنافع کی شرح بڑھا کر 5.50فیصد، 6 ماہ کے لیے ایک ہزار برطانوی پاؤنڈ کی سرمایہ کاری پرمنافع کی شرح بڑھا کر6 فیصد ، ایک سال کے لیے ایک ہزار برطانوی کی سرمایہ کاری پرمنافع کی شرح بڑھا کر7 فیصد ،3سال کے لیے ایک ہزار برطانوی کی سرمایہ کاری پرمنافع کی شرح بڑھا کر7.50 فیصد اور5 سال ماہ کے لیے ایک ہزاربرطانوی پاؤنڈ کی سرمایہ کاری پرمنافع کی شرح بڑھا کر 7.50فیصد کردی گئی ہے۔
نیا پاکستان اور اسلامک سرٹیفکیٹس میں 3 ماہ کے لیے ایک ہزار یورو کی سرمایہ کاری پرمنافع کی شرح بڑھا کر4 فیصد کردی گئی ہے۔ 6 ماہ کے لیے ایک ہزاریور کی سرمایہ کاری پرمنافع کی شرح بڑھا کر4.50 فیصد،ایک ہزاریورو کی سرمایہ کاری پرمنافع کی شرح بڑھا کر5 فیصد،3 سال اور 5 سال کے لیے ایک ہزار یورو کی سرمایہ کاری پرمنافع کی شرح بڑھا کر6.50 فیصد کردی گئی ہے۔
