ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اسرائیل نے ٹرمپ کی غزہ میں جنگ بندی کی تجویز قبول کر لی

بوداپیسٹ/بیت المقدس :۔ اسرائیل نے ٹرمپ کی غزہ میں جنگ بندی کی تجویز قبول کرلی ، غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق پیر کو بوداپیسٹ میں اپنے ہنگری ہم منصب کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر خارجہ گدعون سعار (Gideon Saar) نے اعلان کیا کہ اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کی گئی غزہ میں جنگ بندی کی تجویز کو قبول کر لیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اسرائیل ایک مکمل معاہدے کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے جو جنگ کے خاتمے، یرغمالیوں کی رہائی اور حماس کی جانب سے ہتھیار ڈالنے پر مشتمل ہوگا۔

ادھر اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے کہا ہے کہ انہیں امریکہ کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے “خیالات موصول ہوئے ہیں تاکہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے ایک سمجھوتہ تک پہنچا جا سکے”۔

حماس نے اپنے پریس بیان میں کہا کہ اس موقع پر ہم کسی بھی اقدام کا خیرمقدم کرتے ہیں جو ہمارے عوام پر قابض اسرائیل کے جارحانہ حملے روکنے میں مدد کرے۔ حماس نے واضح کیا کہ وہ فورا ًمذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہے تاکہ تمام قیدیوں کی رہائی کے بدلے میں جنگ ختم کرنے، مکمل اسرائیلی انخلا، اور غزہ کے انتظام کے لیے فلسطینی خودمختار کمیٹی کے قیام پر بات کی جا سکے۔

حماس نے کہا کہ دشمن کی پابندی ایک واضح اور شفاف ضمانت کے ساتھ ہونی چاہیے تاکہ ماضی کے تجربات دہرائے نہ جائیں، جہاں معاہدات پر عمل نہیں ہوا یا انہیں توڑا گیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ آخری معاہدہ جو ثالثوں نے حماس کو امریکی تجویز پر پیش کیا تھا اور حماس نے اسے 18 اگست کو قاہرہ میں قبول کیا، اس پر قابض اسرائیل نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا، بلکہ اپنی نسل کشی اور جارحیت جاری رکھی۔ حماس نے ثالثوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کا اعلان کیا تاکہ ان خیالات کو ایک جامع معاہدے میں تبدیل کیا جا سکے جو ہمارے عوام کے تقاضوں کو پورا کرے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں