تہران: ایران کے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ پر براہ راست حملے کا خطرہ عالمی سطح پر شدید خدشات پیدا کر رہا ہے۔ نیوکلیئر سیکیورٹی ماہر طارق راؤل نے خبردار کیا ہے کہ ایسا حملہ چرنوبل یا ہیروشیما جیسا تباہ کن واقعہ پیدا کر سکتا ہے۔
طارق راؤل جو پہلے انٹرنیشنل ایٹامک انرجی ایجنسی میں نیوکلیئر ویریفیکیشن اور سیکیورٹی پالیسی کے سربراہ رہے ہیں نے الجزیرہ کو بتایا کہ بوشہر جیسے پاور پلانٹس اثرات کو برداشت کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں، لیکن حقیقت میں کیا ہوگا، یہ کوئی نہیں جانتا۔”
انہوں نے کہا کہ اگر خلیج میں تابکاری پھیل گئی تو یہ سالوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ نمک صاف کرنے والے پلانٹس کام نہیں کریں گے، مچھلی کی سپلائی ختم ہو جائے گی، اور سینکڑوں کلومیٹر کے علاقے ناقابل رہائش ہو جائیں گے۔
راؤل نے خبردار کیا کہ تابکاری کے اثرات کے شکار افراد میں جلنے، ہوش کھو دینے، خون کی کمی اور کینسر جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں.جان بوجھ کر یا حادثاتی طور پر نشانہ بنانا غیر ذمہ دارانہ ہے۔