ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

کوہاٹ میں بڑے گیس ذخائر کی دریافت کا دعویٰ، اسمبلی میں سوالات کی بوچھاڑ

پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی رکن داود شاہ نے دعویٰ کیا ہے کہ کوہاٹ میں خلیج کے ذخائر سے بڑے تین گیس کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں، جس پر ایوان میں تفصیلی بحث ہوئی۔

پشاور کے عمران خان اسٹیڈیم میں ہونے والے اسمبلی کے خصوصی اجلاس کے دوران داود شاہ نے نقطۂ اعتراض پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ کوہاٹ میں دریافت ہونے والے گیس کے ذخائر انتہائی بڑے ہیں اور ان کا حجم خلیجی ممالک کے ذخائر سے بھی زیادہ ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب صوبہ ملک کو تقریباً پچاس فیصد گیس فراہم کر رہا ہے تو پھر یہاں گیس کی لوڈشیڈنگ کیوں کی جا رہی ہے اور صوبے کے واجبات کیوں ادا نہیں کیے جا رہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ اس معاملے پر مضبوط مؤقف اپناتے ہوئے صوبے کے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔

اس موقع پر وزیر قانون آفتاب عالم نے ایوان کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کرک میں یومیہ گیارہ ہزار چھ سو پچاس بیرل تیل کی پیداوار ہو رہی ہے جبکہ کوہاٹ میں یومیہ پندرہ ہزار بیرل پیداوار حاصل کی جا رہی ہے جو مستقبل میں بڑھ کر پچیس ہزار بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس خطے میں گیس کے مجموعی طور پر چار سو اٹھاون مکعب فٹ ذخائر کی دریافت ہوئی ہے اور یہ پیداوار عالمی سطح پر بھی اہمیت رکھتی ہے۔

وزیر قانون کے مطابق وفاق نے بڑے منصوبے تو بنائے ہیں لیکن اس نوعیت کے توانائی منصوبے کم ہیں،صوبہ اپنی مجموعی گیس کا تقریباً بہتر فیصد دیگر علاقوں کو فراہم کر رہا ہے جبکہ صوبے کی بڑی آبادی اب بھی گیس کی سہولت سے محروم ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے اور آئینی شق آرٹیکل ایک سو اٹھاون پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، بصورت دیگر حکومت قانونی راستہ اختیار کرے گی۔

اسمبلی میں اس معاملے پر حکومت اور اپوزیشن ارکان کے درمیان تفصیلی گفتگو جاری رہی اور اسے صوبے کے توانائی حقوق سے جڑا اہم مسئلہ قرار دیا گیا۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں