ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے خلیج فارس کے قومی دن کے موقع پر اپنے تفصیلی پیغام میں خطے کے مستقبل سے متعلق دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آنے والے وقت میں خلیج فارس ایک ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں امریکا کی موجودگی کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی، اور علاقائی ممالک اپنی تقدیر خود طے کریں گے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں خطے نے جس نوعیت کے حالات کا سامنا کیا، اس کے بعد اب ایک نیا منظرنامہ ابھر رہا ہے۔ عالمی سطح کی جارحانہ مہم کے 2 ماہ گزرنے اور امریکا کی حکمت عملی کی ناکامی کے بعد خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں طاقت کے توازن میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
اپنے خطاب میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ آبنائے ہرمز صدیوں سے بیرونی طاقتوں کی توجہ کا مرکز رہی ہے اور مختلف قوتیں اس اہم سمندری راستے پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اب حالات بدل رہے ہیں اور خطے کے عوام اپنے وسائل اور جغرافیائی اہمیت کا بہتر ادراک رکھتے ہیں۔
انہوں نے امریکا اور اسرائیل کو خطے میں بدامنی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کی فوجی موجودگی اور کارروائیوں نے خلیج فارس کے امن کو متاثر کیا ہے۔ یہ حقیقت اب واضح ہو چکی ہے کہ غیر ملکی اڈے اور بیرونی مداخلت خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہیں، جس کے خاتمے کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر نے اس امر کا بھی ذکر کیا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران ایرانی عوام نے اپنی مسلح افواج کی کارکردگی کو قریب سے دیکھا، جس میں استقامت، چوکسی اور دفاعی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ شامل تھا۔ ان کے بقول یہی عناصر ایران کی سلامتی کی ضمانت ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی جوہری اور میزائل صلاحیتوں کو قومی اثاثہ سمجھتا ہے اور ان کے تحفظ کے لیے ہر حد تک جائے گا۔ جس طرح ملک اپنی زمینی، بحری اور فضائی سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے، اسی طرح ان دفاعی صلاحیتوں کو بھی محفوظ رکھا جائے گا۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ خلیج فارس کا مستقبل خطے کے ممالک کے باہمی تعاون، ترقی اور استحکام سے جڑا ہوا ہے، اور بیرونی طاقتوں کے اثر سے آزاد ہو کر ہی یہ خطہ حقیقی امن اور خوشحالی کی جانب بڑھ سکتا ہے۔