لندن : برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف کا کہنا ہے کہ ایران امریکا مذاکرات نے پاکستان کے طاقتور ڈھانچے سے پردہ اٹھا دیا۔
برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف کے مطابق گزشتہ ہفتے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کی ناکامی کے بعد اسلام آباد ایئرپورٹ سے روانہ ہوئے، لیکن محض 24 گھنٹوں کے اندر وہ واپس لوٹ آئے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بار ان کی منزل وزیراعظم ہائوس نہیں بلکہ جی ایچ کیو تھی، جہاں انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے دوسری بار ملاقات کی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اس وقت دنیا کے واحد شخص ہیں جو تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ان مذاکرات نے پاکستان کے طاقتور ڈھانچے سے پردہ اٹھا دیا ہے۔
2008ءمیں پرویز مشرف کے جانے کے بعد سے اسٹیبلشمنٹ پردے کے پیچھے سے ملک چلانے کو ترجیح دیتی رہی ہے (چاہے وہ 2018 اور 2024 کے انتخابات ہوں یا وزرائے اعظم کی جیل منتقلی) لیکن اب فیلڈ مارشل عاصم منیر مکمل طور پر منظرِ عام پر ہیں۔
برطانوی اخبار نے لکھا کہ انہوں نے نا صرف فیلڈ مارشل کا لقب قبول کیا (جو ان سے پہلے صرف ایوب خان کے پاس تھا) بلکہ چیف آف ڈیفنس اسٹاف کا نیا مستقل عہدہ تخلیق کرکے اس پر فائز بھی ہوئے۔
سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ “ٹرمپ وزیر اعظم کا نام لکھنے سے پہلے عاصم منیر کا نام لکھتے ہیں، یہ بہت سے پاکستانیوں کے لیے پاکستان کی اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ فیلڈ مارشل وزیر اعظم سے زیادہ طاقتور ہیں اور حتمی فیصلہ ہمیشہ وہی کرتے ہیں”۔
اخبار مزید لکھتا ہے کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرکے بھارت کی جانب سے پاکستان کو تنہا کرنے کی پالیسی کو ناکام بنا دیا ہے، لیکن یہ کردار خطرات سے خالی نہیں۔