ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بھارتی ریاست منی پور خانہ جنگی کی دہلیز پر، سیکیورٹی فورسز کی رٹ ختم

بھارت کی ریاست منی پور میں نسلی فسادات نے ایک بار پھر شدت اختیار کر لی ہے جس کے نتیجے میں خطے کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق کانگپوکپی کے علاقے میں نامعلوم افراد نے گھات لگا کر 4 عیسائی مذہبی رہنماؤں کو بے دردی سے قتل کر دیا ہے۔

خونریز واقعات کے بعد مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور مشتعل مظاہرین نے علاقے میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کا داخلہ بند کر دیا ہے۔ مختلف شاہراہوں پر ناکابندی اور مسلسل ہڑتالوں کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاست میں جدید اسلحہ کا آزادانہ استعمال یہ ظاہر کرتا ہے کہ منی پور باقاعدہ خانہ جنگی کی کیفیت میں داخل ہو چکا ہے۔ عوامی مزاحمت اور عدم اعتماد کے سبب بھارتی سیکیورٹی اہلکار شدید ذہنی دباؤ اور بحرانی کیفیت کا شکار ہو چکے ہیں۔

حالیہ فسادات اور پرتشدد تصادم کے نتیجے میں اب تک متعدد افراد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ 60 ہزار سے زائد شہری اپنے گھر بار چھوڑ کر امدادی کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ یہ بے گھر افراد کسمپرسی اور شدید خوف و ہراس کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں۔

مقامی حکام کی جانب سے امن و امان بحال کرنے کی کوششیں تاحال بار آور ثابت نہیں ہو سکیں اور حکومتی رٹ قائم کرنے میں ناکامی کے باعث انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ علاقے میں جاری کشیدگی نے وفاقی حکومت کی کارکردگی پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بین الاقوامی مبصرین نے بھی منی پور کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین نے مزید کہا کہ اگر فوری طور پر سیاسی حل تلاش نہ کیا گیا تو یہ نسلی فسادات پورے خطے میں مزید تباہی کا باعث بن سکتے ہیں، جس سے امن کی بحالی مزید مشکل ہو جائے گی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں