امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے باعث عالمی تیل منڈی شدید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوگئی ہے جبکہ خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ بندی، آبنائے ہرمز اور خطے کی کشیدہ صورتحال سے متعلق ہر نئی پیش رفت عالمی مارکیٹ پر فوری اثر ڈال رہی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بدھ کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت میں ایک ڈالر سے زائد کمی دیکھی گئی جس کے بعد اس کی قیمت 98 ڈالر فی بیرل کے قریب آگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل بھی نمایاں کمی کے بعد 92 ڈالر فی بیرل کے قریب ٹریڈ کرتا رہا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار اس وقت انتہائی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں کیونکہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کسی بھی وقت بدل سکتی ہے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل جنوبی ایران میں امریکی فوجی کارروائیوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہوگیا تھا کیونکہ مارکیٹ میں خدشہ پیدا ہوگیا تھا کہ آبنائے ہرمز بند ہونے کی صورت میں عالمی تیل سپلائی شدید متاثر ہوسکتی ہے۔
تاہم اب بعض ایل این جی ٹینکرز کے دوبارہ اس بحری راستے سے گزرنے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد مارکیٹ میں امید پیدا ہوئی ہے کہ یہ اہم گزرگاہ مکمل طور پر بند نہیں ہوگی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سرمایہ کار اس بات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ معاہدہ کس سمت جاتا ہے۔ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو عالمی سطح پر تیل اور گیس کی سپلائی بہتر ہوسکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید استحکام آنے کا امکان ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی صرف خطے تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے عالمی منڈیاں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی ہر سفارتی اور عسکری پیش رفت کو انتہائی حساسیت سے دیکھ رہی ہیں۔