ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

 تجارتی تنازعات کے فوری حل کیلیے پیش رفت، کمرشل کورٹس کے قیام کی قانون سازی کا عمل شروع

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں تجارتی اور کاروباری تنازعات کے فوری اور مؤثر حل کے لیے کمرشل کورٹس کے قیام کی قانون سازی کا عمل شروع کرتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی متعلقہ قوانین کا جائزہ لے کر نئی قانون سازی کا مسودہ تیار کرے گی اور اپنی سفارشات 45 روز کے اندر وزیراعظم کو پیش کرے گی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق کمرشل کورٹس کے قیام کا مقصد کاروباری، مالیاتی اور تجارتی مقدمات کو عام عدالتی نظام سے الگ کر کے خصوصی عدالتوں میں منتقل کرنا ہے تاکہ سرمایہ کاروں، صنعتکاروں اور کاروباری اداروں کو تیز رفتار انصاف فراہم کیا جا سکے۔

وزیراعظم کی ہدایت پر قائم کی جانے والی 8 رکنی کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ کریں گے۔ کمیٹی میں اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور وفاقی سیکریٹری قانون سمیت دیگر متعلقہ حکام شامل ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق کمیٹی نہ صرف کمرشل کورٹس کے قیام کے لیے قانونی فریم ورک تیار کرے گی بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں موجود کامیاب ماڈلز کا بھی جائزہ لے گی تاکہ پاکستان میں ایسا نظام متعارف کرایا جا سکے جو بین الاقوامی معیار کے مطابق ہو۔

حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کاروبار میں آسانی پیدا کرنے، سرمایہ کاری بڑھانے اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے عدالتی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ کمرشل کورٹس کے قیام کو بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔

کمیٹی اپنی سفارشات اور مجوزہ قانونی مسودہ 45 روز کے اندر وزیراعظم کو پیش کرے گی، جس کے بعد اسے منظوری کے لیے کابینہ اور پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں