قاہرہ: حماس کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد غزہ میں جاری جنگ بندی کے معاملات اور مستقبل کے لائحہ عمل پر مشاورت کے لیے مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچ گیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق وفد کی قیادت تنظیم کے سینئر رہنما خلیل الحیہ کر رہے ہیں جو مذاکرات میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ وفد مصر کے اعلیٰ حکام اور ثالثی کرنے والے ممالک کے نمائندوں سے تفصیلی ملاقاتیں کرے گا۔
واضح رہے کہ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد امریکا کی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانا اور آئندہ کے لیے طریقہ کار وضع کرنا ہے۔
خلیل الحیہ نے اس حوالے سے کہا ہے کہ مذاکرات کے دوران غزہ پر اسرائیلی حملوں کے تسلسل کا معاملہ شدت سے اٹھایا جائے گا۔ جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود اسرائیلی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں، جس کے نتیجے میں متعدد بے گناہ فلسطینی شہری شہید اور زخمی ہو رہے ہیں اور علاقے میں خوف پھیلا ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قاہرہ میں ہونے والی بات چیت میں ایسے ٹھوس اقدامات پر غور کیا جائے گا جن سے اسرائیلی جارحیت کو روکا جا سکے اور جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے لیے ایک قابلِ عمل اور پائیدار نظام تشکیل دیا جا سکے۔ تنظیم اس سلسلے میں پرعزم ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود غزہ میں کشیدگی برقرار ہے اور اسرائیلی جارحانہ کارروائیاں تھم نہیں سکیں۔
بعد ازاں امریکا نے رواں برس جنوری میں معاہدے کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کا اعلان کیا تھا، جس میں غزہ کی تعمیرِ نو اور انتظامی نظام کے قیام کے امور شامل تھے، تاہم غزہ پیس بورڈ تاحال کوئی نمایاں کارکردگی دکھانے میں ناکام رہا ہے اور زمینی حقائق انتہائی تشویشناک ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حملوں کے باعث فلسطینیوں کو پہنچنے والا جانی و مالی نقصان تاحال جاری ہے، جس سے خطے میں انسانی بحران سنگین تر ہوتا جا رہا ہے اور عالمی برادری کی جانب سے مستقل امن کے قیام کے مطالبات میں شدت آ رہی ہے۔