ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

کینسر کے مریضوں کے لیے بڑی راحت، ادویات 70 فیصد تک سستی ہونے کی امید


نئی دہلی/مرکزی حکومت نے کینسر کے مریضوں کو علاج کے اخراجات میں راحت فراہم کرنے کے لیے کینسر مخالف ادویات کی قیمتوں پر کنٹرول بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے ایسی کینسر مخالف ادویات، جو مقررہ قیمتوں والی فہرست میں شامل نہیں ہیں، کی سپلائی اور فروخت پر منافع کی حد زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت (ایم آر پی) کے 30 فیصد تک مقرر کرنے کی منظوری دی ہے۔ اس اقدام سے بعض ادویات کی قیمتوں میں 70 فیصد تک کمی آنے اور مریضوں کو سالانہ تقریباً 2500 کروڑ روپے کی بچت ہونے کی توقع ہے۔
حکومت کے مطابق، اس فیصلے کا مقصد کینسر کے علاج پر مریضوں اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے اپنی جیب سے برداشت کیے جانے والے اخراجات کو کم کرنا اور ادویات کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافے پر روک لگانا ہے۔
ضروری کینسر مخالف ادویات، جو پہلے ہی مقررہ فہرست میں شامل ہیں، حکومت کی جانب سے طے کردہ زیادہ سے زیادہ قیمتوں کے تابع ہیں۔ اب اس دائرے کو ان ادویات تک وسیع کیا جائے گا جو مقررہ فہرست میں شامل نہیں ہیں۔ محکمہ صحت و خاندانی بہبود کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز (ڈی جی ایچ ایس) کے تحت ایک ماہر کمیٹی ان ادویات کی فہرست کو حتمی شکل دے گی، جس کے بعد نیشنل فارماسیوٹیکل پرائسنگ اتھارٹی (این پی پی اے) ضروری فیصلہ لے کر باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔
حکومت کے مطابق، بھارت میں کینسر کے معاملات میں اضافہ ہو رہا ہے اور تقریباً ایک لاکھ کی آبادی میں 60 افراد اس مرض سے متاثر ہوتے ہیں۔ کینسر کے علاج پر آنے والے بھاری اخراجات مریضوں اور ان کے خاندانوں کے لیے ایک بڑا مالی بوجھ بن جاتے ہیں۔
این پی پی اے کی جانب سے مارکیٹ کے اعداد و شمار کے تجزیے میں سامنے آیا ہے کہ مقررہ فہرست میں شامل نہ ہونے والی کینسر مخالف ادویات کی قیمتوں میں اوسطاً تقریباً 170 فیصد تک اضافہ ہوتا ہے، جبکہ بعض معاملات میں یہ اضافہ 700 فیصد یا اس سے بھی زیادہ پایا گیا ہے۔ادویات کی قیمتوں میں فرق اس بات پر بھی منحصر ہوتا ہے کہ انہیں عام میڈیکل اسٹور، اسپتال کی فارمیسی یا آن لائن فارمیسی سے خریدا جا رہا ہے۔
مہاراشٹر، راجستھان اور کرناٹک سمیت مختلف ریاستوں کے حکام، مریضوں اور سماجی تنظیموں نے بھی کینسر کی ادویات کی بلند قیمتوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ خاص طور پر ادویات کی خریداری کی قیمت اور صارفین سے وصول کی جانے والی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت کے درمیان بڑے فرق پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔حکومت کا کہنا ہے کہ منافع کی حد مقرر کرنے سے غیر ضروری منافع خوری پر روک لگے گی، قیمتوں کے غیر منصفانہ طریقوں کی حوصلہ شکنی ہوگی اور مریضوں کو نسبتاً مناسب قیمتوں پر ادویات دستیاب ہو سکیں گی۔
حکومت نے اس اقدام کو فروری 2019 میں کیے گئے فیصلے کی توسیع قرار دیا ہے۔ اس وقت این پی پی اے نے حکومت کی ہدایت پر ڈرگز (پرائسز کنٹرول) آرڈر 2013 کے پیراگراف 19 کے تحت 42 منتخب غیر مقررہ کینسر مخالف ادویات پر تجارتی منافع کی حد مقرر کی تھی۔
اس فیصلے کے نتیجے میں ادویات کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمتوں میں 91 فیصد تک کمی آئی تھی۔ اس کے تحت 526 برانڈز میں مجموعی طور پر سالانہ 984 کروڑ روپے کی بچت کی اطلاع دی گئی تھی، جس سے کینسر کے مریضوں کو مالی راحت ملی تھی۔
حکومت اب اسی تجربے کی بنیاد پر نئے فیصلے کے ذریعے قیمتوں پر کنٹرول کو مزید وسیع کر رہی ہے۔ اس اقدام سے کینسر کے علاج پر آنے والے اخراجات میں مزید کمی اور مریضوں کو سالانہ 2500 کروڑ روپے کی بچت پہنچنے کی توقع ہے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ قیمتوں میں کمی کے باوجود زندگی بچانے والی ادویات کی مسلسل دستیابی یقینی بنانے کے لیے غیر مقررہ کینسر مخالف ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی موجودہ پیداواری سطح برقرار رکھنی ہوگی۔یہ اقدام برانڈڈ اور جنیرک، ملک میں تیار ہونے والی اور درآمد کی جانے والی، نیز پیٹنٹ شدہ اور غیر پیٹنٹ شدہ کینسر مخالف ادویات پر لاگو ہوگا۔حکومت کے مطابق، اس فیصلے سے مریضوں کو ادویات کم قیمتوں پر حاصل کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ ضروری ادویات کی سپلائی بھی برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں