کوکرناگ کے لاپتہ مزدورکی پنجاب میں نعش برآمد، اہل خانہ نے قتل کا الزام لگاتے ہوئے احتجاج کیا

سری نگر/ جنوبی کشمیر کے علاقے کوکرناگ سے تعلق رکھنے والے ایک مزدور کی نعش پنجاب میں برآمد ہونے کے بعد پیر کے روز اس کے آبائی گاؤں پہنچائی گئی، جس کے بعد اہل خانہ اور مقامی لوگوں نے پولیس اسٹیشن کوکرناگ کے باہر احتجاج کرتے ہوئے قتل کا الزام عائد کیا اور معاملے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
تفصیلات کے مطابق، 28 سے 29 سالہ اعجاز احمد ڈار ولد عبدالحمید ڈار، ساکن درپورہ، ہالپورہ، گڈول کوکرناگ کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ 26 ستمبر کو درج کرائی گئی تھی۔ وہ مزدوری کے سلسلے میں گھر سے نکلا تھا۔
اہل خانہ کے مطابق، اعجاز احمد تقریباً 20 روز قبل سری نگر گیا تھا، جہاں وہ لگ بھگ 10 دن تک مقیم رہا۔ اس کے بعد وہ روزگار کی تلاش میں پنجاب کے شہر لدھیانہ روانہ ہوا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک ہفتے تک اس کے ساتھ فون پر مسلسل رابطہ رہا، تاہم بعد میں اس کا موبائل فون بند ہوگیا اور رابطہ منقطع ہوگیا۔
17 اکتوبر کو اعجاز احمد کی مسلسل گمشدگی اور اس کی سلامتی کے حوالے سے خدشات کے پیش نظر ہالپورہ کے مقامی لوگوں اور اہل خانہ نے احتجاج کیا تھا۔ ایس ڈی پی او کوکرناگ اور ایس ایچ او پولیس اسٹیشن کوکرناگ کی مداخلت اور یقین دہانی کے بعد احتجاج پُرامن طور پر ختم کیا گیا تھا۔
پیر کے روز لاپتہ نوجوان کی لاش پنجاب میں برآمد ہوئی، جسے بعد میں اس کے آبائی گاؤں کوکرناگ پہنچایا گیا۔ لاش گھر پہنچنے کے فوراً بعد اہل خانہ اور مقامی لوگوں نے پولیس اسٹیشن کوکرناگ کے باہر احتجاج کیا اور الزام عائد کیا کہ اعجاز احمد کو قتل کیا گیا ہے۔ مظاہرین نے معاملے کی غیر جانب دارانہ اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
پولیس نے مظاہرین کو یقین دلایا کہ معاملے کی تحقیقات کرکے اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، جس کے بعد احتجاج پُرامن طور پر ختم ہوگیا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں