بارہمولہ/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ہفتہ کے روز لوگوں پر زور دیا کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ہمت کا مظاہرہ کریں اور متحد ہوکر حالات کا مقابلہ کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر لوگ چیلنجز کا سامنا کرنے میں ناکام رہے تو ان کے وجود کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بارہمولہ میں پارٹی کارکنوں کے ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر اس وقت مشکل دور سے گزر رہا ہے اور حالات میں تبدیلی لانے کے لیے لوگوں کو متحد ہوکر کوششیں کرنا ہوں گی۔
انہوں نے کہا، ’’اگر آپ میں حوصلہ ہے تو ہم ان سے لڑیں گے، لیکن اگر آپ میں ہمت نہیں ہے تو آپ مٹ جائیں گے۔‘‘ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ سچ بولیں اور اپنے حقوق کے لیے مضبوطی کے ساتھ کھڑے رہیں۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اگر لوگ حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقابلہ نہ کرتے تو شاید ان کا وجود باقی نہ رہتا، لیکن ثابت قدمی اور جدوجہد ہی انہیں آگے بڑھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کو تبدیلی کی امید میں خاموش بیٹھنے کے بجائے اجتماعی کوششیں کرنی چاہئیں، کیونکہ حقوق کا تحفظ مشترکہ جدوجہد سے ہی ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہم ملک کے خلاف نہیں جانا چاہتے، لیکن ہم ان (اپنے پڑوسیوں) سے کہنا چاہتے ہیں کہ وہ خود کو بدلیں۔‘‘
نیشنل کانفرنس صدر نے ریاستی درجے کی بحالی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ مرکز نے حدبندی اور انتخابات کے بعد جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن یہ وعدہ اب تک پورا نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا، ’’ہم مشکل حالات سے گزر رہے ہیں۔ دہلی میں ہم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ حدبندی اور انتخابات کے بعد ریاستی درجہ بحال کیا جائے گا، لیکن اب تک ایسا کچھ نظر نہیں آرہا ہے۔‘‘
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے لوگوں سے مذہبی اور فرقہ وارانہ اختلافات سے بالاتر ہوکر متحد ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ آواز بلند کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکمران آتے جاتے رہتے ہیں اور وہ لوگوں پر ظلم کرتے ہیں، لیکن ظلم کا یہ سلسلہ ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔
نیشنل کانفرنس صدر نے نوجوانوں میں جموں و کشمیر کی تاریخ سے متعلق بیداری کی کمی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ خطے کی تاریخ اور ان حالات کو سمجھیں جنہوں نے اس کے سیاسی سفر کو تشکیل دیا۔
انہوں نے کہا، ’’ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ہم ہندوستانی نہیں ہیں، لیکن ہم بار بار یہ کہتے آئے ہیں کہ ہم گاندھی کے ہندوستان اور نہرو کے ہندوستان کے ساتھ وابستہ ہوئے ہیں۔‘‘
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ اس کے اتحاد نے 2019 میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کیا۔
وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں |
Load/Hide Comments