نئی دہلی/ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے ایک عوامی نوٹس جاری کرکے لوگوں کو ‘ان فیڈنگ ورلڈ بینک’ نامی ادارے کے ساتھ لین دین کرنے سے خبردار کیا ہے۔ آر بی آئی نے کہا ہے کہ اس ادارے کے پاس بینکنگ لائسنس نہیں ہے اور اس میں جمع کی گئی رقم ملک کے ڈپازٹ انشورنس نظام کے تحت محفوظ نہیں ہے۔
آر بی آئی کے شعبۂ نگرانی، کانپور کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق، اس ادارے کی جانب سے لفظ ‘بینک’ کا استعمال بینکنگ ریگولیشن ایکٹ 1949 کی دفعہ 7 کی خلاف ورزی ہے۔
نوٹس میں اس ادارے کی ویب سائٹ unfeedingworldbank.com بتائی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ مرکزی بینک نے اسے بینکنگ کاروبار کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔
نوٹس میں کہا گیا ہے، ”مذکورہ ادارے کو نہ تو ریزرو بینک نے بینکنگ ریگولیشن ایکٹ 1949 کے تحت کوئی بینکنگ لائسنس جاری کیا ہے اور نہ ہی اسے ریزرو بینک کی جانب سے بینکنگ کاروبار کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔”
آر بی آئی نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ اگر صارفین نے اس ادارے میں کوئی رقم جمع کی ہے تو وہ ڈپازٹ انشورنس اینڈ کریڈٹ گارنٹی کارپوریشن (ڈی آئی سی جی سی) کے بیمہ تحفظ کی اہل نہیں ہوگی۔ ڈپازٹ انشورنس نظام کے تحت بیمہ شدہ بینکوں میں اہل جمع شدہ رقوم کو مقررہ شرائط کے مطابق ہر جمع کنندہ کے لیے 5 لاکھ روپے تک تحفظ حاصل ہے۔ تاہم، یہ تحفظ غیر مجاز بینکنگ اداروں پر نافذ نہیں ہوتا۔
نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس ادارے کے ساتھ مالی لین دین کرنے والے افراد ایسا اپنی ذمہ داری اور خطرے پر کریں گے۔ اس کے علاوہ عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ بینکنگ یا مالی خدمات فراہم کرنے کا دعویٰ کرنے والے اداروں کی پیش کشوں پر عمل کرنے سے پہلے احتیاط برتیں اور ضروری جانچ پڑتال کرلیں۔
آر بی آئی نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ اس بات کی تصدیق کریں کہ کوئی ادارہ بینکنگ سرگرمیاں انجام دینے کا مجاز ہے یا نہیں۔ اس کے لیے وہ آر بی آئی کی ویب سائٹ پر موجود بینکوں اور رجسٹرڈ غیر بینکنگ مالیاتی کمپنیوں کی سرکاری فہرست دیکھ سکتے ہیں۔