بلوچستان میں سیکیورٹی اقدامات، اسمگلنگ کی روک تھام اور ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کی تعمیل شامل بتائی گئی ہیں۔
ایران سرحد کی بندش سے ایل پی جی بحران،12 کلو سلنڈر 7 ہزار روپے تک پہنچ گیا
پاکستان میں ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے اور سلنڈر 7 ہزار روپے تک پہنچنے کے معاملے پر ایران کے ساتھ سرحدی تجارت کی بندش زیرِ بحث ہے۔ سوشل میڈیا پر بعض اکاؤنٹس کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ ایران نے سرحد بند کی ہے اور اب ایل پی جی دوسرے ممالک کو مہنگے داموں فروخت کرے گا، تاہم فراہم کردہ معلومات کے مطابق تجارتی آمد و رفت معطل کرنے کا فیصلہ پاکستان کی جانب سے کیا گیا تھا۔
مذکورہ معلومات کے مطابق، 17 اکتوبر 2026 کو پاکستان نے تفتان اور گبد رمدان کے مقامات پر تجارتی سرگرمیاں معطل کردیں۔ اس اقدام کی وجوہات میں بلوچستان میں سیکیورٹی اقدامات، اسمگلنگ کی روک تھام اور ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کی تعمیل شامل بتائی گئی ہیں۔
سرحدی تجارت کی بندش سے ایل پی جی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق پاکستان ایران سے روزانہ تقریباً 7 ہزار میٹرک ٹن ایل پی جی درآمد کرتا ہے، جس میں سے 4 ہزار ٹن سے زیادہ گبد رمدان کے راستے آتی ہے۔ سپلائی متاثر ہونے کے بعد بلوچستان میں 12 کلوگرام کے سلنڈر کی قیمت تقریباً 4 ہزار 500 روپے سے بڑھ کر 7 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔
پاکستانی حکام نے سرحدی تجارت کی معطلی کی وجوہات میں سیکیورٹی خدشات اور اسمگلنگ کی روک تھام بتائی، جبکہ ایرانی وزارت خارجہ نے تعطل کو تکنیکی مسائل سے جوڑا۔ اس لیے سرحدی بندش کی وجوہات پر دونوں جانب کے مؤقف مختلف ہیں
25 اکتوبر کو گبد رمدان کراسنگ پر تجارتی سرگرمیاں جزوی طور پر بحال ہونے کی اطلاع سامنے آئی، تاہم ایل پی جی کی سپلائی اور سرحد پر رکے ہوئے سامان کی کلیئرنس کے مسائل برقرار رہے۔ تاجروں کے مطابق سیکڑوں گاڑیاں اور ایل پی جی ٹینکرز متاثر ہوئے، جس سے ملک میں گیس کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بڑھ گیا