لکھیم پور کھیری تشدد: سپریم کورٹ نے آشیش مشرا کو دیوالی پر اہل خانہ سے ملنے کی دی اجازت

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے 2021 کے لکھیم پور کھیری تشدد معاملہ کے کلیدی ملزم آشیش مشرا کو دیوالی کے موقع پر اپنے اہل خانہ اور قریبی رشتہ داروں کے ساتھ تہوار منانے کے لیے آبائی شہر جانے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے اسے 16 نومبر تک واپس لوٹنے کی ہدایت دی۔

چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے پیر کو آشیش مشرا کی درخواست منظور کرتے ہوئے یہ اجازت دی۔ آشیش مشرا نے دیوالی کے موقع پر اپنے اہل خانہ کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے ایک ہفتے کی اجازت طلب کی تھی۔

آشیش مشرا کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل سدھارتھ دوے نے عدالت کو بتایا کہ اس سے پہلے بھی تہواروں کے موقع پر اسے اس طرح کی رعایت دی جا چکی ہے۔ بنچ نے درخواست منظور کرتے ہوئے واضح کیا کہ آشیش مشرا ضمانت کی شرائط کی پابندی کرتے ہوئے لکھیم پور کھیری جا سکتا ہے۔

سماعت کے دوران عدالت کو مقدمہ کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اتر پردیش حکومت کی جانب سے پیش ہوئیں وکیل روچیرا گوئل نے بتایا کہ معاملہ میں ایک خصوصی سرکاری وکیل (ایس پی پی) مقرر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :

مقدمے کی سماعت میں تاخیر پر تشویش کے درمیان سپریم کورٹ نے کہا کہ ٹرائل نہ تو ضرورت سے زیادہ تیزی سے چلایا جانا چاہیے اور نہ ہی اس میں غیر ضروری تاخیر ہونی چاہیے۔ استغاثہ کو دونوں پہلوؤں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا، تاکہ مقدمہ کی کارروائی مقررہ وقت میں مکمل ہو سکے۔

سماعت کے دوران ٹرائل جج کے تبادلہ کا معاملہ بھی اٹھا۔ اس سے قبل متاثرین کی جانب سے جج کے طرز عمل پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ متاثرین کے وکیل پرشانت بھوشن نے تبادلے سے متعلق پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ تاہم، آشیش مشرا کے وکیل سدھارتھ دوے نے کہا کہ یہ تبادلہ معمول کی انتظامی کارروائی تھی اور اس کا مقصد جج کے خلاف کسی شبہ یا منفی نتیجے کا اظہار کرنا نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں :

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ وہ کسی کے خلاف الزام عائد نہیں کر رہی ہے۔ عدالت کے مطابق الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے اٹھائے گئے اصلاحی اقدامات کافی ہیں۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ کی 22 ستمبر کی ہدایت سے بھی جڑا ہے، جس میں ٹرائل جج کے طرز عمل سے متعلق الزامات والی درخواست کو مناسب کارروائی کے لیے الہ آباد ہائی کورٹ بھیجنے اور سیل بند لفافے میں رپورٹ طلب کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ 3 اکتوبر 2021 کو لکھیم پور کھیری میں اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کے دورے کے خلاف کسانوں کے احتجاج کے دوران تشدد میں 8 افراد کی موت ہو گئی تھی۔ پولیس کی ایف آئی آر کے مطابق، احتجاج کرنے والے 4 کسانوں کو ایک ایس یو وی سے کچل دیا گیا تھا، جس میں آشیش مشرا سوار تھا۔ جنوری 2023 میں سپریم کورٹ نے اسے سخت شرائط کے ساتھ عبوری ضمانت دی تھی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں