دہلی کے تاریخی ’رام لیلا میدان‘ میں راہل گاندھی کی یکم نومبر کو مجوزہ ریلی پر تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ صدر بازار باری مارکیٹ ٹریڈ ایسوسی ایشن کے صدر پرمجیت سنگھ پمّا نے تہواروں کے پیش نظر راہل گاندھی اور ریلی کے منتظمین سے پروگرام ملتوی کرنے کی اپیل کی تھی۔ اس کے جواب میں راہل گاندھی نے تاجروں سے کہا ہے کہ ’’مودی جی سے کہیے کہ ملزم نمبر 4، گیانیش کمار کو ہٹائیں، 30 سیکنڈ میں تحریک رک جائے گی۔‘‘
دراصل دیوالی سمیت اہم تہواروں کے دوران دہلی کی تھوک منڈیوں میں کاروبار بڑھ جاتا ہے۔ ایسے میں ریلی کے باعث ٹریفک متاثر ہونے اور سیکورٹی انتظامات کی وجہ سے بازاروں تک رسائی میں دشواری پیدا ہونے کا خدشہ ہے، جس سے تاجروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو سکتا ہے۔ پرمجیت سنگھ پمّا نے اپیل کی کہ کاروبار اور عام لوگوں کے مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے ریلی کی تاریخ پر دوبارہ غور کیا جائے، تاکہ تہواروں کے دوران دہلی کے بازاروں کی رونق اور کاروباری سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔
صدر بازار باری مارکیٹ ٹریڈ ایسوسی ایشن کے صدر پرمجیت سنگھ کا کہنا ہے کہ صدر بازار، چاندنی چوک، کھاری باؤلی، فتح پوری اور آزاد مارکیٹ جیسی اہم منڈیوں میں تہواروں کے دوران بڑی تعداد میں تاجر اور دوسری ریاستوں سے آنے والے خریدار پہنچتے ہیں۔ اس دوران تحائف، سجاوٹ کے سامان، کپڑوں، کراکری اور دیگر اشیا کی طلب بڑھ جاتی ہے۔ ان کے مطابق ریلی کے دوران ٹریفک کی آمد و رفت کے راستوں میں تبدیلی، سڑکوں پر پابندیوں یا سیکورٹی بندشوں کے باعث گاہکوں کو بازاروں تک پہنچنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔ اس کا اثر دکانداروں کے ساتھ ساتھ ملازمین، مزدوروں، ٹرانسپورٹروں اور کاروبار سے وابستہ دیگر لوگوں کی روزی روٹی پر بھی پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :
اس اپیل پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر تاجروں کے نام ایک پیغام جاری کیا ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں ’’دہلی کے ہر تاجر سے: ہم آپ سے محبت کرتے ہیں، آپ کی بات سن رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے آگے لکھا ہے کہ ’’میٹرو حکومت نے بند کی، سڑکیں حکومت نے بلاک کی، راجدھانی پر تالا حکومت نے لگایا۔ جب ووٹ ہی چوری ہو جائے تو کچھ بھی محفوظ نہیں… نہ آپ کی دکان، نہ آپ کی بچت، نہ آپ کے بچوں کا مستقبل۔‘‘ سوشل میڈیا پوسٹ کے آخر وہ لکھتے ہیں کہ ’’مودی جی سے کہیے… ملزم نمبر 4، گیانیش کمار کو ہٹائیں، 30 سیکنڈ میں تحریک رک جائے گی۔‘‘