سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کی برسی کے موقع پر آج کانگریس کی اعلیٰ قیادت نے ان کی یاد میں نئی دہلی کے ’شکتی استھل‘ پہنچ کر خراجِ تحسین پیش کیا۔ پارلیمانی پارٹی کی چیئر پرسن سونیا گاندھی، قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے اندرا گاندھی کی آخری آرام گاہ پر گلہائے عقیدت نذر کیے اور ان کی خدمات کو یاد کیا۔ کانگریس پارٹی کے آفیشل ’ایکس‘ ہینڈل پر تینوں لیڈران کی تصاویر کے ساتھ الگ الگ پیغامات جاری کیے گئے۔
پارٹی نے ملکارجن کھڑگے کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کی برسی پر انہیں پھولوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ملک کی یکجہتی اور سالمیت کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے والی اندرا گاندھی کو سلام۔‘‘ سونیا گاندھی کی تصویر شیئر کرتے ہوئے یہ لکھا کہ ’’کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کی برسی پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ’آئرن لیڈی‘ اندرا گاندھی کو آج پورا ملک یاد کر رہا ہے۔ انہیں عقیدت بھرا سلام۔‘‘ راہل گاندھی کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے ملک کی سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کی برسی پر انہیں پُرخلوص خراجِ عقیدت پیش کیا۔ طاقت، عزم اور مضبوط قیادت کی مثال رہیں اندرا گاندھی جی کو سلام۔‘
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ’ایکس‘ پر اندرا گاندھی کی تقریر کی ایک ویڈیو شیئر کی۔ اس کے ساتھ ہی ان کی تقریر کا ایک مختصر حصہ بھی شیئر کیا، جس میں وہ کہہ رہی ہیں کہ ’’جب تک مجھ میں سانس ہے، تب تک خدمت کا سلسلہ جاری رہے گا اور جب میری جان جائے گی تو میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ میرے خون کا ایک ایک قطرہ ایک متحدہ ہندوستان کو زندہ رکھے گا۔‘‘ وہ اپنی پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’ناقابل تسخیر حوصلے، غیر متزلزل عزم اور دوراندیش قیادت کی علامت، ہندوستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم اور ہماری مشعل راہ محترمہ اندرا گاندھی کو یوم شہادت پر پرخلوص خراج عقیدت۔ ملک کی یکجہتی، سالمیت اور خودداری کے تحفظ کے لیے ان کی جدوجہد اور جدید ہندوستان کی تعمیر میں ان کا انمول تعاون ہمیشہ ہماری قومی یادداشت کا حصہ رہے گا۔ ان کا حوصلہ ہمارے لیے مشعل راہ ہے اور ان کی قربانی ہماری ناقابل فراموش یاد۔‘‘
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے ’ایکس‘ پر اپنے بچپن کی ایک تصویر شیئر کی جس میں وہ اپنی دادی یعنی اندرا گاندھی کی گود میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اپنی پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ ’’آپ کی گود میں بیٹھنا، آپ کے دونوں ہاتھ تھامنا، آپ کی آواز میں یہ الفاظ سننا اور پھر آپ کے پیچھے پیچھے انہیں دہرانا۔ ’اَسَتو ما سَدگَمَیہ، تَمَسو ما جیوتِرگَمَیہ، مِرتیورما اَمْرِتَم گَمَیہ، اوم شانتی، شانتی، شانتی۔‘‘ انہوں نے اپنی دادی کو یاد کرتے ہوئے مزید لکھا کہ ’’دادی، آپ نے مجھے کتنا خوبصورت تحفہ دیا۔ کتنا انمول تحفہ! میں نے کبھی اس کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔‘‘
کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے بھی ’ایکس‘ پر اپنے بچپن کی ایک تصویر شیئر کی جس میں وہ اپنی دادی اندرا گاندھی کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہیں۔ پوسٹ میں دادی کو یاد کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے لکھا کہ ’’ وہ کتنی خوبصورت خاتون تھیں! آسمان کی طرح آزاد، سمندر کی طرح گہری، زمین کی طرح مضبوط اور دہکتی آگ سے بھی زیادہ روشن۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ اندرا گاندھی 31 اکتوبر 1984 کو اپنے سرکاری رہائش گاہ کے احاطے میں اپنے ہی 2 محافظوں کی گولیوں کا نشانہ بنیں۔ وہ صبح ’بی بی سی‘ کے ایک پروگرام کے لیے انٹرویو دینے نکل رہی تھیں، جب ان پر ان کے محافظوں نے فائرنگ کی۔ انہیں زخمی حالت میں ایمس اسپتال لے جایا گیا لیکن راستے میں ہی ان کی موت ہو گئی۔ اندرا گاندھی کو ان کے جرات مندانہ فیصلوں، سیاسی بصیرت اور مضبوط قیادت کی وجہ سے دنیا بھر میں ’آئرن لیڈی آف انڈیا‘ یعنی ’خاتونِ آہن‘ کہا جاتا ہے۔ انہوں نے 1966 سے 1977 اور پھر 1980 سے 1984 تک ہندوستان کی وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کے دور میں ملک نے 1971 کی جنگ میں پاکستان پر فیصلہ کن کامیابی حاصل کی، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آیا۔ اسی جنگ کے بعد اندرا گاندھی کو عالمی سطح پر ایک طاقتور اور بااثر رہنما کے طور پر تسلیم کیا گیا۔