جموں و کشمیر حکومت بحران کا شکار، نیشنل کانفرنس کے 25 ارکان اسمبلی نے 14 دن کا الٹی میٹم دیا

جموں و کشمیر میں عمر عبداللہ حکومت کو بحران کاسامنے بتایا جا رہا ہے ۔ نیشنل کانفرنس (این سی) کے 25 ناراض ارکان اسمبلی کے ایک گروپ نے پارٹی قیادت کو 14 دن کا الٹی میٹم جاری کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان ارکان اسمبلی نے حکومت میں بڑی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا ہے اور انتباہ دیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات نہیں مانے گئے تو وہ راج بھون پہنچ کر حمایت واپس لے سکتے ہیں۔

باغی ارکان اسمبلی کے مطالبات میں تمام موجودہ وزراء کو ان کے عہدوں سے ہٹانا اور وزیر اعلیٰ کے مشیر کو فوری طور پر ہٹانا شامل ہے۔ جس کے بعد انہوں نے مکمل طور پر نئی وزراء کونسل کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے جس میں پوری قانون ساز پارٹی سے مشاورت اور شفاف طریقے سے وزراء کا انتخاب ضروری ہے۔ذرائع کے مطابق، ناراض ارکان اسمبلی چاہتے ہیں کہ حکومتی فیصلے کسی منتخب گروپ کے ذریعہ یکطرفہ طور پر نہ کئے جائیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ نئی کابینہ کی تشکیل میں پوری اسمبلی سے مشاورت کی جائے اور میرٹ کی بنیاد پر ذمہ داریاں تفویض کی جائیں۔

باغی گروپ نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اپنے انتخابی منشور میں کیے گئے وعدوں کو سختی سے نبھائے۔ اس میں خاص طور پر مرکزی حکومت کے ساتھ آرٹیکل 370، 35A اور دیگر آئینی تحفظات کی مکمل بحالی کے معاملے کو مضبوطی سے اٹھانا شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق اگر 14 دن کی ڈیڈ لائن کے اندر ان مطالبات پر ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی تو باغی ارکان اسمبلی راج بھون کی طرف مارچ کر سکتے ہیں اور عمر عبداللہ حکومت سے اپنی حمایت واپس لینے کا اعلان کر سکتے ہیں۔

90 رکنی جموں و کشمیر اسمبلی میں مبینہ طور پر این سی کے 41 ایم ایل اے ہیں۔ اگر 25 ایم ایل اے متحد ہو کر حکومت سے حمایت واپس لے لیتے ہیں تو عمر عبداللہ حکومت کو اکثریتی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے حکومت کا کام کرنا مشکل ہو جائے گا۔ این سی قیادت کو اب 14 دنوں کے اندر ناراض ارکان اسمبلی کو راضی کرنے، اقتدار کی تبدیلی کے ان کے مطالبات کو حل کرنے اور حکومت کو ممکنہ بحران سے بچانے کا چیلنج درپیش ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں