مٹھی: چیف سیکریٹری نے ایمبولینس دھماکے کی تحقیقاتی رپورٹ مسترد کردی

تحقیقاتی رپورٹ میں فائر سیفٹی کے انتظامات میں سنگین غفلت کا انکشاف کمشنر کی سربراہی میں تین رکنی نئی کمیٹی قائم

November 5, 2026 · اہم خبریں

فائل فوٹو

فائل فوٹو

تھرپارکر: چیف سیکریٹری سندھ نے دانوداندل دیہی مرکز صحت ایمبولینس دھماکہ وآتشزدگی واقعے کے متعلق محکمہ صحت کی تحقیقاتی رپورٹ مسترد کرکے کمشنر میرپورخاص کی سربراہی میں نئی کمیٹی قائم کردی۔

تفصیلات کے مطابق تھرپارکر کے علاقے دانوداندل میں ایمبولینس میں دھماکے اور آتشزدگی کے نتیجے میں 10افرادکے جاں بحق ہونے کے واقعے کی تحقیقات کیلیے سیکریٹری صحت سندھ کی جانب سے قائم کردہ تین رکنی کمیٹی کی رپورٹ چیف سیکریٹری سندھ کو موصول ہوگئی تاہم چیف سیکریٹری سید آصف حیدر شاہ نے رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کمشنر میرپورخاص کی سربراہی میں ایک تین رکنی نئی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

؎ذرائع کے مطابق پہلی تحقیقاتی کمیٹی میں ڈائریکٹر جنرل صحت انیس صدیقی، ریجنل ڈائریکٹر پی پی ایچ آئی مظہر ویسر اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر تھرپارکر عمیر اشرف شامل تھے۔

ذرائع کے مطابق چیف سیکریٹری سندھ نے محکمہ صحت کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے واپس بھیج دیا اور کمشنر میرپورخاص کی سربراہی میں نئی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔ نئی کمیٹی کو واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر72گھنٹوں میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

کمیٹی کو دھماکے کی اصل وجوہات، متعلقہ اداروں کے کردار، غفلت اور ذمہ داریوں کا تعین کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔چیف سیکریٹری سندھ سید آصف حیدر شاہ نے بھی میڈیا کو تصدیق کی ہے کہ انہیں تحقیقاتی رپورٹ موصول ہوئی تھی، تاہم انہوں نے کمشنر میرپورخاص کو دوبارہ انکوائری کرنے کی ہدایت کی ہے۔دوسری جانب محکمہ صحت کی پہلی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں واقعے سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں،تاہم دھماکے اور آگ لگنے کی حتمی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔

رپورٹ کے مطابق دانوداندل کے رورل ہیلتھ سینٹر میں ایمبولینس کا خالی آکسیجن سلنڈر تبدیل کیا جارہا تھا کہ اسی دوران یا فوری بعد دھماکا ہوا۔ عینی شاہدین نے بھی آکسیجن سلنڈر تبدیل کرنے کے دوران دھماکا ہونے کی تصدیق کی ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ میں آکسیجن سلنڈر، والو یا ریگولیٹر میں خرابی اور سلنڈر غلط طریقے سے نصب کرنے کو دھماکے کی ممکنہ وجوہات قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آکسیجن فلو میٹر کھولنے کے لیے اسپینر استعمال کیا گیا جبکہ گواہ ثمینہ کے بیان کے مطابق آکسیجن سلنڈر تبدیل کرتے وقت ایمبولینس کا انجن بھی چل رہا تھا۔

رپورٹ کے مطابق حادثے میں تباہ ہونے والی ایمبولینس میں پیٹرول کی مناسب مقدار موجود تھی۔ اکتوبر کے مہینے میں ایمبولینس کے لیے اسلام کوٹ کے پیٹرول پمپ سے233لیٹر پٹرول خریدا گیا جبکہ آخری مرتبہ 28 اکتوبر کو پیٹرول ڈلوایا گیا تھا۔

تحقیقاتی ٹیم کو ایمبولینس کے سلنڈر میں ایل پی جی یا سی این جی موجود ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا جبکہ جائے وقوعہ کے معائنے کے دوران ایمبولینس میں موجود ایل پی جی سلینڈر درست حالت میں پایا گیا۔

تحقیقاتی رپورٹ میں فائر سیفٹی کے انتظامات میں سنگین غفلت کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ دانوداندل اسپتال میں آگ بجھانے والا فائر سیفٹی سلنڈر اسٹور روم میں رکھا ہوا تھا اور حادثے کے وقت اسے استعمال نہیں کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اسپتال میں آگ بجھانے کے آلات کی شدید کمی تھی۔ اگر فائر سیفٹی سلنڈر مناسب جگہ پر باہر نصب ہوتا تو آگ پر قابو پانے میں مدد مل سکتی تھی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں