سرینگر/انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون سوجیت کمار نے جمعرات کو نوجوانوں سے منشیات کی اسمگلنگ اور سائبر جرائم کے خلاف پولیس کا ساتھ دینے کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا کہ معلومات فراہم کرنے والوں کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی۔آئی جی پی کشمیر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی میڈیا بات چیت کے دوران پولیس کنٹرول روم سرینگر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سوجیت کمار نے کہا کہ پولیس منشیات کے نیٹ ورکس، سائبر فراڈ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں، بالخصوص نوجوانوں کی جانب سے خطرناک انداز میں بائیک چلانے کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لا رہی ہے۔آئی جی پی نے کہا کہ پولیس عوام کے ساتھ ہے اور ان کی ٹیم سمیت پورا کشمیر زون پولیس اس لڑائی میں نوجوانوں کی بھرپور مدد کرے گا۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ آگے آئیں اور اس مہم میں مثبت کردار ادا کریں۔
منشیات مخالف کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے سوجیت کمار نے بتایا کہ رواں سال پولیس نے نارکوٹک ڈرگز اینڈ سائیکوٹروپک سبسٹینسز (این ڈی پی ایس) ایکٹ کے تحت 1500 سے زائد مقدمات درج کیے ہیں، جبکہ تقریباً 2000 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کارروائیوں کے دوران تقریباً ایک کروڑ 10 لاکھ روپے نقد رقم برآمد کی گئی، جبکہ کروڑوں روپے مالیت کی جائیدادیں بھی ضبط کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ منشیات سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث افراد کے 567 بینک اکاؤنٹس منجمد کیے گئے ہیں، جن میں تقریباً ایک کروڑ 31 لاکھ روپے کی رقم موجود تھی۔
آئی جی پی نے کہا کہ پولیس منشیات کی اسمگلنگ کے پیچھے موجود مالیاتی نیٹ ورکس کو بھی نشانہ بنا رہی ہے، جن میں سرینگر کے ڈاؤن ٹاؤن میں سرگرم عناصر بھی شامل ہیں۔ اس سلسلے میں منشیات فراہم کرنے والوں اور ان کے معاونین کے خلاف کارروائیوں میں مزید تیزی لائی گئی ہے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ منشیات فروشی سے متعلق معلومات پولیس کے ساتھ شیئر کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اطلاع دینے والوں کی شناخت محفوظ رکھی جائے گی اور انہیں پولیس کی جانب سے مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔
سوجیت کمار نے کہا کہ اگر کسی شخص کے پاس منشیات فروشی سے متعلق معلومات ہیں تو وہ بلا خوف آگے آئے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص مدد کے لیے پولیس تھانے یا بحالی مرکز سے رجوع کرتا ہے تو پولیس اس کی ہر ممکن مدد کرے گی اور اس کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔انہوں نے منشیات کی لت میں مبتلا افراد سے بھی اپیل کی کہ وہ خاموشی سے اس مسئلے کا سامنا کرنے کے بجائے مدد حاصل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان معاشرے کا مستقبل ہیں اور انہیں اس لعنت کی وجہ سے اپنی زندگی تباہ نہیں کرنی چاہیے۔
سائبر جرائم کے حوالے سے آئی جی پی نے نوجوانوں کو خبردار کیا کہ وہ منظم آن لائن فراڈ نیٹ ورکس کا حصہ نہ بنیں، خصوصاً ایسے نیٹ ورکس سے دور رہیں جو دھوکہ دہی سے حاصل ہونے والی رقم کی منتقلی کے لیے دوسروں کے بینک اکاؤنٹس (منی میول اکاؤنٹس) استعمال کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ حالیہ معاملات میں پولیس کو سائبر فراڈ کے متاثرین کی جانب سے 54 کروڑ روپے سے زائد کے نقصان کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق دھوکہ دہی سے حاصل کی گئی رقم میں سے تقریباً 13 سے 14 فیصد رقم برآمد کی جا چکی ہے، جبکہ 7 کروڑ روپے سے زائد متاثرین کو واپس کیے گئے ہیں۔
آئی جی پی نے کہا کہ اپنے ہی لوگوں کو دھوکہ دینا غلط عمل ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ایسی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہوں اور نہ ہی ان منظم نیٹ ورکس کا حصہ بنیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں اور تیز رفتاری سے گاڑیاں چلانے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے سوجیت کمار نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ٹریفک قوانین کی پابندی کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ لاپرواہی سے ڈرائیونگ نہ صرف ڈرائیور بلکہ پیدل چلنے والوں اور سڑک استعمال کرنے والے دیگر افراد کی زندگیوں کے لیے بھی خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ سڑکوں پر حفاظت ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور تمام افراد کو ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔واضح رہے کہ 2007 بیچ کے اے جی ایم یو ٹی کیڈر کے آئی پی ایس افسر سوجیت کمار نے اگست 2026 میں وی کے بردی کی جگہ آئی جی پی کشمیر زون کا عہدہ سنبھالا تھا۔
وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں |
Load/Hide Comments