واشنگٹن —
بعض امریکی اراکین کانگریس نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دنیا کا خطرناک ترین خطہ قرار دیا ہے، اور امریکی حکومت سے پوچھا ہے کہ وہ کشمیر میں حالات معمول پر لانے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
جنوبی ایشیا میں انسانی حقوق کی صورتحال پر منگل کو کانگریس کی ذیلی کمیٹی میں سماعت کے دوران کمیٹی کے چیئرمین بریڈ شرمین نے کہا کہ ’’امریکی سفارتکاروں کو بھارتی زیر انتظام کشمیر جانے سے روکا گیا، جس کی وجہ سے ہم آزاد ذرائع سے کشمیر کی صورتحال جاننے سے قاصر ہیں‘.
انھوں نے سوال کیا کہ ’امریکہ کی کشمیر کے بارے میں پالیسی کیا ہے؟‘
اس موقع پر اراکین کانگریس نے بتایا کہ ’’امریکہ میں مقیم کشمیری کمیونٹی نے انھیں بتایا ہے کہ کشمیر میں ان کا اپنے اہل خانہ سے کوئی رابطہ نہیں رہا اور انھیں نہیں معلوم کہ وہ کس حال میں ہیں‘۔
سماعت میں بتایا گیا کہ پابندیوں کے دوران بھارتی میڈیا کو مبینہ طور پر دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اگر انھوں نے بھارتی زیر انتظام کشمیر کی صورتحال پر خبریں جاری کیں ’تو ان کی فنڈنگ روک دی جائے گی‘۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ دباؤ کے ان مبینہ اقدامات کے نتیجے میں ’کشمیر کی حقیقی صورتحال دنیا کے سامنے نہیں آ پا رہی‘۔
خاتون رکن کانگریس شیلا جیکسن لی نے سوال کیا کہ ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کتنے فوجی ہلاک ہوئے اور اس جنگ میں امریکہ کیا کردار ادا کر رہا ہے؟‘‘ انھوں نے کہا کہ ’’کشمیر میں آٹھ لاکھ بھارتی فوجی کیوں تعینات ہیں؟ گویا وہاں ہر آٹھ شہری پر ایک فوجی کی نگرانی ہے‘‘۔
معاون امریکی وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا، ایلس ویلز نے جواب میں بتایا کہ ․’بھارت سمجھتا ہے کہ اسے کشمیر میں غیر ریاستی دہشت گردوں سے خطرہ ہے، جو لائن آف کنٹرول پار کر سکتے ہیں، جس کے باعث اتنی بڑی تعداد میں کشمیر میں فوجیوں کی تعیناتی ضروری ہے‘۔
ان سے سوال کیا گیا کہ وہ غیر ریاستی عناصر کون ہیں، تو انھوں نے کہا کہ ’یہ عناصر جیش محمد، لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین ہیں‘۔
انھوں نے کہا کہ ’’جب وزیر اعظم عمران خان امریکہ کے دورے پر آئے تھے تو ان سے کہا گیا تھا کہ ان لوگوں کو روکا جائے‘‘، جس پر، بقول ان کے، ’’وزیر اعطم عمران خان نے حوصلہ افزا جواب دیا تھا‘‘؛ اور انھوں نے کہا تھا کہ ’’کسی بھی دہشت گرد کو لائن آف کنٹرول پار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘‘۔
ایلس ویلز کے بقول، ’امریکہ نے دیکھا کہ اس کے بعد لائن آف کنٹرول پار کرنے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا‘۔
ایلس ویلز نے کہا کہ ’’امریکہ چاہتا ہے کہ دونوں ممالک (پاکستان اور بھارت) شملہ معاہدے کے تحت بات چیت سے اس مسئلے کو حل کریں‘‘۔
بقول ان کے ’’امریکہ دونوں ممالک کے درمیان تعمیری مذاکرات کے حق میں ہے‘‘۔
اس موقع پر رکن کانگریس الہان عمر نے سوال کیا کہ کشمیر کے مسئلے پر امریکی حکومت کیا کر رہی ہے؟ انھوں نے کہا کہ ’ہمارے علم میں ہے کہ وہاں چار ہزار کشمیری نوجوان گرفتار ہیں‘۔ جواب میں، ایلس ویلز نے کہا کہ ‘کشمیر کے مسئلے پر بھارتی حکومت سے بات ہوئی ہے۔ امریکہ کشمیر کے مسئلے کا قریب سے جائزہ لے رہا ہے اور وہاں کی صورتحال کے پیش نظر امریکی شہریوں کو کشمیر جانے سے روک دیا گیا ہے‘۔
سماعت کے دوران بھارتی نژاد امریکی سینیٹر، جیہ پال نے کہا کہ ’بھارت اب دنیا کی بڑی جمہوریت نہیں رہا۔ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ وہاں اس وقت بیماروں کو بھی اجازت نہیں کہ وہ علاج کے لئے سفر کر سکیں‘۔
امریکی کانگریس میں امور خارجہ کی ذیلی کمیٹی کی جانب سے ہونے والی اس سماعت کے دو سیشن ہوئے۔ صبح کی نشست میں امریکی وزارت خارجہ کے حکام کے علاوہ ’ہیومن رائٹس کمیشن‘ اور ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ کے اہلکار پیش ہوئے۔
اس موقع پر معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیا، ایلس ویلز مدعو تھیں۔ دوسری نشست میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے متاثرین پیش ہوئے جنھوں نے کمیٹی اراکین کو صورت حال سے آگاہ کیا۔
اس خصوصی سماعت کے دوران، امریکہ میں قائم ’کشمیر ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن‘ کے اراکین نے کانگریس سے رابطہ کار کے طور پر کام کیا۔ فاؤنڈیشن کے سربراہ اور کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رہنما ڈاکٹر آصف محمود نے بتایا کہ انھوں نے کشمیر کی صورتحال پر اپ ڈیٹ حاصل کر لیا ہے۔
واشنگٹن میں تعینات معروف بھارتی صحافی، للیت جھا نے بتایا کہ ’’یہ سماعت صرف کشمیر پر نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا کی صورتحال پر ہے۔ اس میں کشمیر پر بھی فوکس ہوگا۔ لیکن، بلوچستان، سندھ ، نیپال، سری لنکا اور روہنگیا مسلمانوں کی صورتحال پر بھی بات ہوگی‘‘۔