ویب ڈیسک —
اسلام آباد ہائی کورٹ نے حزب اختلاف کی جماعت جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما اور سابق سینیٹر حافظ حمد اللہ کی شہریت منسوخی کا فیصلہ معطل کر دیا ہے۔
عدالت نے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) سے شہریت منسوخی پر دو ہفتوں میں جواب طلب کرلیا ہے۔ جب کہ نادرا اور وزارت داخلہ کو تاحکم ثانی حافظ حمد اللہ کے خلاف کسی اقدام سے بھی روک دیا گیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے حافظ حمد اللہ کی درخواست پر سماعت کی۔
سماعت کا آغاز ہوا تو جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ "کیا حافظ حمد اللہ کے بچے بھی ہیں اور ان کے پاس بھی پاکستانی شناختی کارڈ ہے؟
جس پر درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ جی ان کے بچوں کے پاس بھی شناختی کارڈ ہیں اور حافظ حمد اللہ کا ایک بیٹا فوج میں بھی ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ جو ماں اپنے بیٹے کو وطن پر قربان کرنے بھیج دے اس کے شوہر کی شہریت پر کوئی شک ہو سکتا ہے؟
عدالت نے مختصر سماعت کے بعد حافظ حمد اللہ کی شہریت منسوخی کے نادرا کے فیصلے کو معطل کر دیا۔
یاد رہے کہ نادرا نے 26 اکتوبر کو جے یو آئی (ف) کے مرکزی رہنما حافظ حمد اللہ کو غیر ملکی شہری قرار دیتے ہوئے ان کا قومی شناختی کارڈ منسوخ کر کے ضبط کر لیا تھا۔