قبائلی اضلاع میں تعلیم کیلئے مختص 22 ارب میں سے صرف 4 ارب روپے جاری

پشاور: حکومت نے قبائلی اضلاع میں تعلیم کے لیے مختص 22 ارب میں سے چار ارب روپے کی خطیر رقم جاری کردی ہے۔

ان اضلاع میں اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے لیے ابتدائی طور پر 7 ہزار چار سو 33 بھرتیاں کرنے کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔

مشیر تعلیم ضیاء اللہ بنگش نے پریس کانفرنس کے دوران اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ جاری کیے گئے فنڈز صوبائی حکومت کے بجائے والدین اور اساتذہ کونسل کے تحت خرچ ہوں گے.

جس میں چالیس کروڑ کی لاگت سے سٹیشنری، اڑھائی ارب روپے کے بچوں کو وظیفے جبک ہ 23 کروڑ کھیلوں کے میدانوں پر خرچ ہوں گے۔

صوبائی مشیر نے واضح کیا کہ اب تک قبائلی اضلاع میں 128 گھوسٹ اساتذہ کو نوکری سے نکالا جاچکا ہے اور مزید چھان بین جاری ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں