نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) انتہا پسند جماعت اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا کی جانب سے بابری مسجد کے بدلے مسلمانوں کو مسجد کیلئے5 ایکڑ زمین دینے کے فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کر دی گئی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق انتہا پسند ہندوجماعت کی جانب سے گزشتہ روز عدالت میں درخواست دائر کی گئی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ بابری مسجد کیس میں مسلمان فریقوں کی جانب سے مسجد کے لیے متبادل جگہ کا مطالبہ ہی نہیں کیا گیا تو عدالت متبادل جگہ کیسے دے سکتی ہے؟ درخواست میں مسلمانوں کیخلاف زہر فشانی کرتے ہوئے مزید کہا گیا ہے کہ فیصلے سے مندر کو توڑ کر مسجد بنانا ثابت ہو گیا تو کیوں مسلمانوں کو مندر توڑ نے کے انعام میں 5 ایکڑ زمین دی جا رہی ہے؟ واضح رہے کہ مسلمان جماعت جمعیت علمائے ہند پہلے ہی مسجد کے لیے زمین کی خیرات کو ٹھوکر مار کر عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے خلاف 2 دسمبر کو نظر ثانی کی درخواست دائر کر چکی ہے۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- مسکان-رویتا کو پھانسی دینے کے لیے جلاد بننا چاہتی ہے ’آل انڈیا ہندو مہاسبھا‘ کی میرا راٹھوڑ، انتظامیہ کو لکھا خط
- رکن اسمبلی اننت سنگھ کو جنتا دل یو نے پارٹی سے کیا بے دخل، 6 سال کے لیے دکھایا باہر کا راستہ
- ’ووٹ چور‘ گیانو چھوٹے پیادوں کو نمٹا کر خود کو بچانے میں مصروف ہے: کانگریس
- ٹائیگر شراف پر حملہ سے بالی ووڈ میں خوف کا ماحول، اے آئی سی ڈبلیو اے نے وزیر داخلہ امت شاہ کو لکھا خط
- الیکشن کمیشن منصوبہ بند سازش کا ٹھیکرا سافٹ ویئر پر پھوڑنے کی کوشش کر رہا، یہ قابل قبول نہیں: کانگریس
