ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

عمران خان نجات دہندہ بن سکتے ہیں، نعیم صدیقی

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ہنر فراہم کرنے کے لیے ملک کے سب سے بڑے پروگرام ہنر مند جوان کا افتتاح گذشتہ روزکردیا ہے جو کہ بہت ہی خوش آئند بات ہے۔جب سے پی ٹی آئی کی حکومت نے پاکستان کا اقتدار سنبھالا ہے ہم اس وقت سے پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریوں کی مسلسل تکرار سنتے چلے آرہے ہیں اب تو ایک سال اور چار ماہ گذر چکے ہیں۔نوجوان نسل کو روزگار کی ضرورت ہے ہماری معیشت بڑی مدت سے ڈانوا ڈول ہے اسے سنبھالا دینا بہت ضروری ہے۔اگر حکومت تاجر برادری اور عوام کیلئے آسانیاں پیدا کرے گی۔ملک کے اندر کاروباری اور ہنر مندی کے سلسلے آسان اور عام ہوں گے تو لوگ بہتری کی جانب جائیں گے ملک کے اندر رائے عامہ مہں مثبت تبدیلی آئے گی۔ نوجوانون کیلئے اس طرح کے پروگرام پاکستان کے اندر بیروزگاری،مہنگائی اور معیار زندگی کی بہتری کے علاوہ معیشت میں بھی مدد گار ثابت ہوں گے۔ وزیر اعظم کی جانب سے شروع کیے جانیوالے ہنرمند پروگرام کے لیے 30 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے ابتدائی طور پر 10 ارب روپے نوجوان نسل کو ہنر مند بنانے میں استعمال کیے جائیں گے۔اس پرگرام کے اہم نقاط میں جو باتیں شامل ہیں ان میں کل 5 لاکھ نوجوانوں کو ہنر مند بنایا جائے گا ان کاموں میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس، روبوٹکس، کلاڈ کمپیوٹنگ کے ہنر شامل ہوںگے جبکہ پہلے مرحلے میں ا جو نوجوان اس سہولت سے استفادہ کریں گے ان کی تعدادیک لاکھ 70 ہزار رکھی گئی ہے۔500 تربیتی مراکز کھولے جائیں گے، مدارس کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ پہلے مرحلے میں 70 سینٹر مدارس میںقائم کیے جائیں گے وزیراعظم عمران کان کا کہنا ہے کہ آج تک ہم نے مدرسوں کے بچوں کو اپنا نہیں سمجھا۔ عمران خان کے اس اقدام سے اب امید کی جا سکتی ہے کہ ہمارے مدارس بھی تعمیرو ترقی اور ہنر مندی میں برابر کے حصہ دار بنیں گے۔وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ان فنی اداروں میں 300 اسمارٹ ٹیکنکل سینٹر ہوں گے، جو انٹرنیشنل کوالٹی ٹیکنکل انسٹییٹوٹ کے ساتھ وابستہ ہوں گے اور ابتدائی مرحلے میں 75 سینٹرز کھولے جائیں گے۔ حکومت کی مندرجہ بالا ترجیحات میں ہمارا خیال ہے کہ ہنر کے حوالے سے مزید تجاویز دی جا سکتی ہیں اور کچھ اہم پروگرام اس میں شامل کیے جا سکتے ہیں اس حوالے سے حکومت کو دیکھنا چاہئے کہ فوری طور پر ہم کون سے ایسے کام اپنی نئی نسل کو کم وقت میں سکھا کر ان سے فائدہ لے سکتے ہیں اور ان کو عملی زندگی میں پاکستان کا کارآمد اور باہنر شہری بنا سکتے ہیں۔ وزیراعظم کا یہ بھی کہنا ہے کہ سال 2020 میں ہم نے لوگوں کو روزگار دینا ہے جبکہ آئندہ 4 برسوں میں 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کرنی ہے۔ ان اعلانات پر عمل درآمد کیلئے پوری قوم بڑی بے چینی سے منتظر ہے۔ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان میں تعمیرو ترقی کے بے پناہ مواقع موجود ہیں صرف ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران نیک نیتی کے ساتھ کسی بھی کام کو عملی طور پر شروع کردین اور اس کی ذمہ داری ایسے لوگوں کو دی جائے جو ملک اور قوم کی ضروریات سے آگاہ ہونے کے ساتھ ساتھ لوگون کے انتہائی سنجیدہ مسائل سے بھی آگاہی رکھتے ہوں۔جب پاکستان قائم ہوگیا تھا تو اس کے فوری بعد اس نوزائیدہ مملکت کو بہت زیادہ مشکلات درپیش تھیں لیکن ہمارے اجداد نے اس ملک کے انتظام و انصرام کو چلانے کیلئے ایسے محنت کی تھی کہ اس کی مثال بیان کرتے ہوئے آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ ہمارے افسران جو مختلف وزارتوں میں کام کرتے تھے ان کے پاس سہولیات اور سازوسامان کا فقدان تھا۔فائلوں میں لگانے کیلئے پن دستیاب نہیں تھیں تو کیکر کے کانٹے لگا کر فائل ورک کیا جاتا تھا۔سادگی اور قومی خزانے میں امانتداری کا یہ عالم تھا کہ بانی پاکستان محمد علی جناح اپنے وزراء سے کہتے تھے کہ انھوں نے چائے یا کافی پینی ہے تو گھر سے پی کر آئیں قومی خزانہ عوام کی امانت ہے جو صرف عوام کی بھلائی کیلئے خرچ ہو گا۔ اور پھر ہم نے دیکھا کہ پاکستان نے بہت کم وقت میں ترقی کی منازل طے کیں۔جرمنی اور کوریا ہماری ترقی کا راز جاننے کیلئے مشاورت اور رہنمائی لیاکرتے تھے۔چین کے ایک وفدنے پاکستان کے دورے میں جب حبیب بنک کی کراچی میں واقع کثیر المنزلہ عمارت کو دیکھا تو ان کو اس بات کا یقین ہی نہیں آتا تھا کہ یہ پاکستانیوں نے تعمیر کی ہے۔ہماری صنعت و تجارت کا دنیا میں بہت برا نام تھا لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ جب حکمران طبقہ آسائشوں کی جانب مائل ہو گیا۔پیداواری صلاحیت کم ہونے لگی اور اخراجات میں اضافہ ہونے لگا تو پاکستان میں تعمیر وترقی کا پہیہ جام ہونا شروع ہوگیا۔اس جانب سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینے کی بجائے پاکستان کی حکومتوں نے آئی ایم ایف اور ورلد بنک کا دروازہ دیکھ لیا اور قرضے لینے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔امریکہ و یورپ سے امداد پر انحصاار کیا جانے لگا جس کی وجہ سے ہم کام چور ہو گئے۔قرضے بڑھتے گئے اور حکمرانوں کی جانب سے وسائل کا استعمال غیر ترقیاتی کاموں کی جانب ہو گیا جس کی وجہ سے ہماری معیشت زوال کا شکار ہونے لگی اور ملک کے اندر کبھی جہھہوریت اور کبھی فوجی حکومت اور کبھی نیم فوجی حکومت۔جن کے پیش نظر ملک و قوم سے زیادہ ذاتی و گروہی مفادات تھے۔ان ساری کوتاہیوں کی سزا قوم مہنگائی،بیروزگاری اور بیماریوں کی صورت بھگت رہی ہے اور اب تو یہ عالم ہے کہ زندگی مشکل تر ست مشکل ترین مرحلے میں آ پہنچی ہے۔عوام نے ہمیشہ حکمرانوں سے اچھی توقعات وابستہ کی ہیں اور اب شاید آخری بار عمران خان کو بھرپور موقع ملا ہے۔اگر وہ ملک کو مشکل حالات سے نکالنے میں کامیاب ہوجاتے تو قوم ان کو نجات دہندہ سمجھے گی انھیں کم از یہ فکر تو نہیں ہے کہ ماضی کیطرح کسی بھی وقت ان کی حکومت کو گھر جانا پڑ جائے گا لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ کام کریں ملک کیلئے قوم کیلئے تاکہ ہمارے معاشی حالات بہتر ہوں کہ شاید اس سے مشکل حا لات پہلے کبھی بھی نہیں تھے۔۔۔۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں