
ایفرو ایشیا فورم کے چیئرمین نعیم صدیقی نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا اور مشرق وسطی میں نئی کشیدگی کی گنجائش نہیں ہے، بھارتی فوج کے سربراہ کی جانب سے غیر پیشہ ورانہ بیانات غیر سنجیدہ حرکت ہے جو وہ اپنے داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے دے رہے ہیں ، ایک پیشہ ور سپاہی کو سیاست سے اجتناب کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان پر امن ملک ہے اور نہیں چاہتا کہ خطے میں کوئی کوئی نئی جنگ شروع ہو جائے،پاکستان اور بھارت کے عوام جنگ کے حق میں ہر گز نہیں بلکہ دونوں ملکوں کو اپنے عوام کی ترقی اور خوشحالی کیلئے کام کرنا چاہئے ہمارے بے پناہ مسائل حل طلب ہیں اس میں نئی کشیدگی کی گنجائش نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر خطے میں کشیدگی بڑھے گی تو پاکستان بھی اسکی لپیٹ میں آسکتا ہے اور اس کا اثر پوری دنیا پر ہو سکتا ہے۔ بھارت کو پاکستان دشمنی میں کسی بھی مس ایڈوینچر سے باز رہنا ہو گا۔انھوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم دہشت گردی اورانسان دشمنی کی علامت بنتا جا رہا ہے ، نریندر مودی کی بنیادی انسانی حقوق کے خلاف پالیسیوں اور امتیازی قوانین کے خلاف پورے بھارت میں عوام احتجاج جلسے اور جلوس کر رہے ہیں۔ احتجاج کی کیفیت بھارت کو اپنی لپیٹ میںلیے ہوئے ہے۔ ایفرو ایشیا فورم کے چیئر مین نے کہا کہ بھارت کو پاکستان کے ساتھ مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل کے منصفانہ حل کیلئے تعمیری ،مثبت اور با معنی مذاکرات کرنا ہوں گے۔ظلم اور جبر کی پالیسی کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتی ۔ان کا کہنا تھا کہ ابھی بھی افغانستان کا مسئلہ بہت پیچیدہ ہے وہاں بھی پر امن اور بامعنی مذاکرات کی ضرورت ہے۔ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان کی حکومت افغانستان میں امن اور مفاہمت کا سلسلہ کامیاب بنانے میں کردار ادا کرتی رہے گی۔