نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی عدالت عظمیٰ نے گجرات میں 2002ء کے مسلم کش فسادات کے دوران 22 خواتین سمیت 33 مسلمانوں کو زندہ جلانے والے 17 انتہا پسند ہندوئوں کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ان تمام دہشت گردوں کو مسلم کشی کا الزام ثابت ہونے پر گجرات کی عدالت عالیہ نے عمر قید کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف مجرموں نے عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کر رکھی تھی۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- مسکان-رویتا کو پھانسی دینے کے لیے جلاد بننا چاہتی ہے ’آل انڈیا ہندو مہاسبھا‘ کی میرا راٹھوڑ، انتظامیہ کو لکھا خط
- رکن اسمبلی اننت سنگھ کو جنتا دل یو نے پارٹی سے کیا بے دخل، 6 سال کے لیے دکھایا باہر کا راستہ
- ’ووٹ چور‘ گیانو چھوٹے پیادوں کو نمٹا کر خود کو بچانے میں مصروف ہے: کانگریس
- ٹائیگر شراف پر حملہ سے بالی ووڈ میں خوف کا ماحول، اے آئی سی ڈبلیو اے نے وزیر داخلہ امت شاہ کو لکھا خط
- الیکشن کمیشن منصوبہ بند سازش کا ٹھیکرا سافٹ ویئر پر پھوڑنے کی کوشش کر رہا، یہ قابل قبول نہیں: کانگریس
