ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

عالمی سٹاک مارکیٹس کو دھچکااورپاکستان کی معاشی صورتحال، نعیم صدیقی

ایف اے ٹی ایف کے فرانس کے شہر پیرس میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کو ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے مزید وقت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے مطابق آئندہ چار ماہ کے دوران تمام شرائط پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔ چین نے پاکستان کی بھرپور مدد اور حمایت کی ہے چین کے مطابق پاکستان نے دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خاتمے کے لیے بہت زیادہ کوششیں کی ہیں۔ ابھی تک پاکستان کا نام گرے لسٹ میں ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو عالمی تجارت اور اییکسپورٹ امپورٹ میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ملک کے اندر بھی معاشی صورتحال بہتر نہیں ہے ابھی تک آٹے اور چینی کا بحران پیدا کرنے والوں کے خلاف مناسب کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی البتہ وزیراعظم بار بار یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ کسی کو نہیں چھوڑیں گے اس سلسلے میںوزیراعظم نے چینی کی قیمتوں میں اضافے کی تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم کردی اور اب انھوں نے کمیٹی کو کہا ہے کہ وہ ذمہ داروں اور ان کے کردار کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی کا طریقہ بھی تجویز کرے۔دیکھتے ہیں کمیٹی کیا کرتی ہے ، دوسری طرف سٹٰٹ بنک کے گورنر نے قوم کو خوشخبری سنادی ہے کہ معاشی عدم استحکام کا بدترین دور اب ختم ہوچکا ہے ان کے بقول اب پاکستان کی معیشت ترقی کی جانب گامزن ہو گئی ہے۔رضا باقر کا کہنا ہے کہ ملک کے کاروباری شعبے کا مستقبل روشن ہے، ایوان صنعت و تجارت چھوٹے و درمیانے طبقے کے شعبوں میں کردار ادا کریں۔ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کرنٹ اکائونٹ خسارہ 7 ماہ میں 72 فیصد کم ہوگیا ہے سٹیٹ بنک کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ خسارہ 2 ارب 65 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہ گیا ہے جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 7 ارب 47 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تھا۔ وفاق کی جانب سیمہنگائی کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں پر عائد کر دی گئی ہے لیکن یہ سمجھ نہیں آتی کہ صوبائی حکومت ہو یا وفاقی یہ سب اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ ملک کے اندر آئین اور قانون کی بالادستی قائم کریں اور عام لوگوں کے لیے زندگی کو آسان بنائیں۔اگر عوام کو زندگی کی بنیادی ضرورت کی اشیاء مہنگے داموں ملیں گی تو لوگوں کیلئے زندگی گذارنا مشکل ہو جائے گا۔ابھی رمضان المبارک کی آمد بھی قریب ہے۔اس بات پر گہری نظر رکھنی ہو گی کہ کوئی بھی شخص ذخیرہ اندوزی میں ملوث نہ ہو۔رمضان کے دوران عوام کو قیمتوں میں اضافے سے بچانے کے لیے اضافی اقدامات اٹھانے کے لیے تیار رہنا چاہیے تاکہ عوام جو پہلے ہی پریشان حال ہیں ان پر مزید مالی بوجھ نہ پڑے۔مالی سال کی پہلی ششماہی: مقامی تیل کی پیداوار میں 10 فیصد تک کمی ہوئی ہے۔پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل میں بالترتیب 8.68 فیصد اور 10.21 فیصد کمی آئی ہے۔اگر ہم عالمی سطح پر دیکھتے ہیں تو چین کے حالات کی وجہ سے تیل کی کھپت کم ہو گئی ہے اور قیمتیں بھی بہت حد تک کم ہو گئی ہیں۔کورونا وائرس کی وجہ سے عالمی معیشت مزید خطرے میں دکھائی دیتی ہے۔آئی ایم ایف کی سربراہ نے جی 20 ممالک سے کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے آپس میں تعاون کی اپیل کر دی ہے جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ صرف چین کے معاشی حالات میں خرابی پیدا ہونے سے ساری دنیا کیلئے معاشی مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ پاکستان کی معیشت جو پہلے ہی مشکلات سے دوچار تھی اس میں مزید رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں پاکستان کی معروف کاروباری شخصیات کا کہنا ہے کہ حکومت پر کاروبار کے لیے سازگار ماحول بنانے پر سنجیدگی سے عملی اقدامات کرے۔حکومت کو چاہئے کہ صرف ان اداروں کی نجکاری کرے جو خسارے میں ہیں تاکہ ان سے ملنے والی رقم کو عوام کی فلاح و بہبودمیں استعمال کیا جاسکے۔یہ بات حیرت انگیز ہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک نے سال 2019 میں پاکستان کو 2 ارب 40 کروڑ ڈالر کا ریکارڈ قرض دیا ہے لیکن ملک کے اندر ترقیاتی کامون کا سلسلہ تاحال نہیں دیکھا جا رہا۔ایک ارب 80 کروڑ ڈالر پروگرام کے قرض اور 63 کروڑ 43 لاکھ ڈالر منصوبوں کے قرض کے سلسلے میں فراہم کیے گئے۔اب لازم ہے کہ حکومت ترقیاتی کاموں کا آگاز کرے جس کی بدولت عوام کے لیے روزگار کے ذرائع پیدا ہوں گے۔اگر ہم سونے کی قیمتوں کی جانب توجہ کریں تو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بارسونے کی فی تولہ قیمت 93 ہزار 650 روپے کی نئی ریکارڈ سطح تک جا پہنچی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی معیشت بھنور میں ہے اور اس سے نکلنے لیء پوری قوم کو ایک نئے جذبے کے ساتھ عملی کردار ادا کرنا ہوگا۔2020 ء کے آغاز کے ساتھ رواں صدی کی تیسری دہائی کا آغاز بھی ہوگیا ہے۔ اس دہائی کے آغاز میں دنیا جو جن چیلنجز کا سامنا تھا، اب ان میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔چین میں کورونا وائرس سے پھلنے والی بیماری نے ساری دنیا کوہلا کر رکھدیا ہے ،دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس کو ایسا دھچکا لگا ہے کہ اب عالمی معیشت کو سنبھلنے میں کچھ وقت درکار ہو گا۔ کورونا وائرس سے بڑھتی ہلاکتوں کی وجہ سے پہلا معاشی دھچکا اسٹاک مارکیٹس کو لگا۔ سرمایہ کاروں کو یہ خدشہ لاحق ہوگیا ہے کہ کہیں یہ وبائی مرض چین سمیت دنیا کی معیشت کو ہی نہ نگل جائے۔ اس خوف کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلے پھیلنے والی بیماری سارس کی وجہ سے بھی معیشت بھاری نقصان کا سامنا کرچکے ہے۔۔۔چین دنیا کا معاشی لیڈر اور دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے، چنانچہ چین کے حالات کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے، اور یہ اثرات نظر بھی آرہے ہیں۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ عالمی معیشت کا دارومدار چینی معیشت پر ہے کیونکہ دنیا بھر کی مصنوعات سازی کی 20 فیصد پیداوار چین میں ہوتی ہے اور چین عالمی معیشت کا پانچواں حصہ ہے۔اسٹاکس مارکیٹس کے ساتھ ہی دنیا بھر میں ایندھن کی مارکیٹ پر بھی اثرات مرتب ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ چین دنیا میں ایندھن کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ اگر اس کی معیشت رکتی ہے جیسا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ایک بڑے صوبے کو محدود کردیا گیا ہے اور دیگر علاقوں میں بھی دفاتر کے بجائے گھر سے کام کو ترجیح دی جارہی ہے تو ایسے میں ایندھن کی کھپت میں بھی کمی ہوتی ہے۔2020 کے آغاز پر جب ایران امریکا کشیدگی عروج پر تھی اس وقت خام تیل کی فی بیرل قیمت 70 ڈالر تک پہنچ گئی تھی تاہم گزشتہ جمعے کو یہ قیمت 55 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی ہے۔ ماہرین نے امکان ظاہر کیا ہے کہ پیٹرولیم کی عالمی قیمتوں میں مزید 5 ڈالر فی بیرل تک کی کمی ہوسکتی ہے۔کورونا وائرس سے پہلے 2004 سے 2009 کے دوران برڈ فلو (H5N1) کے وائرس سے 30 ارب ڈالر، 2006 سے 2011 سے پھیلنے والے سوائین فلو (H1N1) سے 50 ارب ڈالر جبکہ ایبولا وائرس سے 10ارب اور ذیکا وائرس سے تقریبا 12ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا ہے۔ 2020 ء میں چین کی ترقی کی شرح پہلے ہی گراوٹ کا شکار تھی اور یہ توقع کی جارہی تھی کہ چینی معیشت 6.1 فیصد کی شرح سے نمو پائے گی جو گزشتہ 3 دہائیوں کی کم ترین شرح تھی، اور اب کرونا وائرس کی بیماری کے بعد تو صورتحال مزید خراب ہوتی دکھائی دیتی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں