
بھارت میں کرونا بحران کی دوسری لہر سے پیدا ہونے والی صورتحال میں ایک سوال پیدا ہوا ہے کہ کیا کرونا بحران نے عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ کو متاثر کیا ہے؟
یہی سوالات امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کی جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں قائم سیگور سینٹر فار ایشئین سٹڈیز کے زیر اہتمام ہونے والی ایک گفتگو میں پوچھے گئے۔ گفتگو میں ادارے کے ان سابق طالبعلموں نے حصہ لیا، جو بھارت میں کام کر رہے ہیں، اور کووڈ نائٹین کی دوسری لہر سے پیدا ہونے والے بحران کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔
اس گفتگو میں بھارت کی پراتھم ایجوکیشن فانڈیشن میں عالمی تعاون سے کی جانے والی کوششوں میں شریک عہدیدار تانوی بینر جی، کارنیگی انڈیا میں سیکیورٹی سٹڈیز پروگرام کے رابطہ کار اور تحقیقی معاون راہول بھاٹیہ، اقوام متحدہ کیلئے بھارتی مشن کی سابق انٹرن اکشے سدراس اور نئی دہلی میں ایک سٹیل کمپنی کے سپلائی مینجر ویبھو جین نے شرکت کی۔ گفتگو کی میزبانی ایلیٹ سکول کی پروفیسر دیپا اولاپالی اور کویتا دایا نے کی۔
چاروں بھارتی نوجوانوں نے کووڈ نائٹین کی دوسری لہر سے پیدا ہونے والے بحران کے دوران انسانی وقار کی نفی، میڈیاکے کردار ، بھارت کی دیہی آبادی کو درپیش مسائل، طبقاتی تفاوت اور عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ متاثر ہونے جیسے مسائل پر بات کی۔
ساکھ پر بات کرتے ہوئے راہول بھاٹیہ کا کہنا تھا کہ دوسری لہر کے دوران بھارت کمزور نظر آیا ہے، اور 17 برس کے بعد اسے امداد لینا پڑی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ خارجہ نے بھارت کو کووڈ نائٹین سے متعلقہ 100 ملین ڈالر سے زیادہ کی امداد فراہم کی ہے۔
تانوی بینر جی کا کہنا تھا کہ کرونا بحران سے بھارت کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت کو بھوٹان سے آکسیجن مانگنی پڑی اور ریاست پنجاب نے پاکستان سے آکسیجن منگوانے کیلئے خصوصی کوریڈور بنانے کی درخواست کی۔
ویبھو جین کا کہنا تھا کہ پہلے ہمیں اپنے گھر کے مسائل کو نمٹانا ہو گا اور پھر عالمی قوت بننے کی جانب قدم بڑھانا ہو گا۔
"مسئلہ انسانی وقار کی بے وقعتی کا بھی ہے”
تانوی بینر جی کا کہنا تھا کہ آکسجین میں کمی کی وجہ سیتو سب ہی مر جاتے ہیں لیکن مسئلہ انسانی وقار کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آکسیجن اور ہسپتالوں میں بستروں کی کمی کا مسئلہ اپنی جگہ، مگر انسانوں کو آخری رسومات کے لئے بھی سڑک کنارے کسی مہربان کا انتظار کرنا پڑے، یہ انسانی وقار کے منافی ہے۔
تانوی کا کہنا تھا کہ حد تو یہ ہے کہ لوگ جب میتوں کو ہسپتالوں سے منسلک میڈیکل کالجوں میں لے کر جارہے ہیں کہ ان کے اعضا طبی تجربات کے کام آئیں، لیکن وہاں بھی جگہ نہیں اور لوگوں کو سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اس المیے سے کس طرح نمٹا جائے۔ حال یہ ہیکہ این جی اوز کو چتائیں جلانا پڑ رہی ہیں۔
دیہی علاقوں سے خبر کیوں نہیں آرہی؟
آندھرا پردیش سے اکشے سدراس کا کہنا تھا کہ کووڈ سے ایک سماجی مسئلہ بھی پیدا ہوا ہے۔ دیہی آبادیوں میں کووڈ نائٹین کا مرض بدنامی کا ٹیکہ ہے۔ اگر کوئی وبا کی لپیٹ میں آ بھی جائے تو سماجی مقاطعے کے ڈر سے کسی کو نہیں بتایا جاتا۔ اکشے کہتی ہیں کہ اگر کسی کو کووڈ ہو جائے تو گاوں کے لوگ، اس مریض سمیت پورے خاندان کو گاوں سے باہر نکال دیتے ہیں۔ اس لئے کووڈ سے اموات کی تعداد کا صحیح اندازہ ہی نہیں ہو رہا اور دیہی آبادی کے بارے میں کوئی خبر نہیں آ رہی۔
آکسیجن کی پیداوار اور نقل و حمل
راہول بھاٹیا نے کہا کہ آکسیجن کی کمی سے ریاستیں چیخ رہی ہیں۔ صرف دارالحکومت دلی میں 700 میٹرک ٹن آکسیجن کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت قومی سطح پر لاک ڈان نہیں ہوا لیکن کئی ریاستوں میں لاک ڈان ہے اور دیگر میں سخت پابندیوں کی وجہ سے نقل و حمل میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی ریاستوں میں سخت قوانین کی وجہ سے آکسیجن کی پیداوار سے زیادہ ترسیل میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
ویبھو جین کا کہنا تھاکہ جو لوگ گھروں میں علاج کروا رہے ہیں، انہیں بھی آکسیجن کی ضرورت ہے لیکن ان کی ضرورت سرکاری تخمینوں کا حصہ نہیں بنتی۔
ادویات کی ذخیرہ اندوزی
ویبھو کا کہنا تھا کہ بحران میں مزید بگاڑ کا باعث بلیک مارکیٹ ہے۔ پیراسیٹامول ، سٹیروئیڈز اور ریم ڈیسویئر جیسی ادویات کی سپلائی میں کمی آئی ہے اور بلیک مارکیٹ میں ان کی قیمت 200 سے 300 گنا زیادہ ہے۔ آکسیجن کی ذخیرہ اندوزی ہو رہی ہے۔
"طبی عملہ تھکن سے چور ہے”
ویبھو نے کہا کہ ایک اور مسئلہ ہیلتھ ورکروں کا ہے خاص طور پر ڈاکٹر وں، نرسوں ، ایمولینس ڈرائیوروں اور دیگر طبی عملے کا ہے۔ وہ اس وقت تھکن سے نڈھال ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اعداد و شمار دیتے ہوئے کہا کہ اس بحران کے دوران، 1000 بھارتیوں کو 1.3 ڈاکٹر میسر ہے۔ جبکہ بحران کے دوران، طبقاتی فرق بھی کھل کر سامنے آیا ہے۔ اس وقت علاج معالجے اور آکسیجن کے حصول کے لئے ذات، خاندان اور تعلقات بھی ترجیحی قطار میں آگے کھڑے ہونے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔
کرونا بحران کی میڈیا کوریج کیسے ہو رہی ہے؟
تانوی بینر جی کا کہنا تھا کہ میڈیا جانبدار ہے۔ اس کے اپنے سیاسی نظریات ہیں اور وہ ان کے مطابق ہی کوریج کرتا ہے، جبکہ اس بحران پر اسے صاحب اختیار لوگوں کو جوابدہ ٹھہرانا چاہئیے، جن میں مقامی سطح کے لیڈر بھی شامل ہیں۔ دوسرا، بقول ان کے، غلط خبریں آ رہی ہیں جنہیں فیک نیوز کہتے ہیں۔ اس لئے شفافیت نہیں رہی۔ میڈیا کو چاہئیے کہ وہ تحقیق کر کے صحیح معلومات پہنچائے۔
راہول بھاٹیا کا کہنا تھا کہ بحران کی کوریج میں غیر ملکی میڈیا زیادہ متحرک ہے ۔ ویبھو کا کہنا تھا کہ علاقائی میڈیا اپنا کردار بہتر طور پر ادا کر رہا ہے اور وہ زیادہ متحرک ہے۔
واضح رہے کہ بھارت کے کرونا بحران میں اب تک کئی میڈیا اداروں کے 80 سے زائد صحافی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ ہر صحافی کے اپنے خاندان میں کوئی نہ کوئی کرونا سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔بی بی سی کی ایک حالیہ رپورٹ میں دو خواتین صحافیوں نے بتایا کہ ان کے لئے بحران کی اس درجے طویل کوریج ایک بیحد مشکل مرحلہ ثابت ہوا اور وہ صحافی جو دوسروں کی خبر دیتے ہیں، ان کی اپنی خبر گیری کرنے والا کوئی نہیں ہے۔