عراق ،داعش کے حملے میں 11 افراد ہلاک

بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک) عراقی دارالحکومت بغداد کے شمال میں گاؤں پر ہونے والے حملے میں 11 افراد ہلاک ہو گئے۔ سکیورٹی حکام نے حملے کی ذمے داری داعش پر عائد کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے دیالہ صوبے کے رشاد نامی گاؤں بھتا نہ دینے پر کارروائی ،جس میں 6افراد بری طرح زخمی ہو گئے۔ گاؤں والوں نے جب بھتا دینے سے منع کر دیا تو داعش کے جنگجوؤں نے پہلے گاؤں کے 2افراد کو اغوا کر لیا اور پھر شہریوں پر فائرنگ شروع کر دی۔ اس سے قبل جولائی میں داعش نے بغداد کے مضافات میں بم دھماکاکیا تھا ، جس میں 30 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ داعش نے دارالحکومت بغداد میں مصروف ترین بازار میں 2خود کش حملوں کی ذمے داری بھی قبول کی تھی،جس میں 36 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ دوسری جانب بغداد میں امریکی سفیر میتھیو ٹولر نے کہا ہے کہ امریکا عراق میں واشنگٹن کے مفادات کو نشانہ بنانے والے غیر قانونی مسلح گروہوںپر پابندیاں عائد کرے گا۔ ٹولرنے اربیل شہرمیں منعقدہ مشرق وسطیٰ فورم کے موقع پر خطاب میں کہا کہ عراق میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے والے حملے غیر قانونی گروہوں کی طرف سے کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ایران اور ہمسایہ ممالک سے کہا ہے کہ وہ ایسا نہ کریں اور عراقی سرزمین کی خودمختاری کی خلاف ورزی سے باز آئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کردستان کے علاقے کو نشانہ بنانے والے حملوں کا مقصد وہاں کی صورتحال کو خراب کرنا تھا۔ انہوںنے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ عراق کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کا سلسلہ بند کرے۔ عراق اپنے ملک کے معاملات کو بیرونی مداخلت کے بغیر خود ہی چلا سکتا ہے۔ امریکی سفیر نے کہا کہ عراقی الیکشن کمیشن دھمکیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے حالیہ پارلیمانی انتخابات کرانے میں کامیاب رہا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں