اقوام متحدہ کی جانب سے افغان سرحد پر عائد پابندیاں نرم کرنے پر پاکستانی اقدام کی تعریف

پاکستان نے پڑوسی ملک افغانستان سے ملنے والی سرحد پر عائد پابندیوں کو نرم کرنے کے سلسلے میں جو تازہ اقدامات کیے ہیں، ان کا اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے مہاجرین نے خیر مقدم کیا ہے۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ ان سے مشکلات میں گھرے افغانستان تک اشیا کی ترسیل آسان ہو جائے گی اور لوگ سرحد پار کرنے کی غرض سے سمگلروں کے ہتھے نہیں چڑھیں گے۔

اگست کے وسط میں جب طالبان نے افغانستان کا کنٹرول سنبھالا تھا، اس کے بعد سے پاکستان نے مشترکہ سرحد پر کڑی پابندیاں لگا دی تھیں۔ لیکن، اب ان میں نرمی کر دی گئی ہے۔

مہاجرین کی ایجنسی کے ترجمان، بابر بلوچ نے کابل سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سرحد کے آر پار جانے میں سختیوں کی وجہ سے تجارت اور لوگوں کی معمول کی آمد و رفت متاثر ہو رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ان پابندیوں سے وہ لوگ بھی متاثر ہوئے جو اپنے تحفظ کے لیے افغانستان چھوڑنا چاہتے تھے۔

سرحد پر اس گڑبڑ کی وجہ سے عورتوں اور بچوں سمیت بہت سے افغان باشندوں کو مطلوبہ طبی امداد نہیں مل سکی، خاص طور سے دونوں ملکوں کے درمیان چمن۔سپین بولدک سرحد پر بہت سے لوگ پھنسے رہے، کیوں کہ تین ہفتوں تک یہ سرحدی راستہ بند رکھا گیا۔

بلوچ نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے نئے اقدامات سے لوگوں کا خوف دور ہوگا اور وہ سمگلروں کے چنگل میں نہیں پھنسیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ افغانوں کا بہت بڑا ریلا ملک چھوڑ کر بھاگے گا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ بمشکل پچاس ہزار افراد ملک چھوڑ کر پاکستان اور ایران گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں سب سے بڑا مسئلہ اندرون ملک بے گھر ہونے والوں کا ہے۔ صرف اس سال تقریباً سات لاکھ افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر کسی محفوظ مقام پر پناہ گزین ہوئے ہیں، جب کہ کل تعداد پینتیس لاکھ سے بھی زیادہ بنتی ہے۔

بابر بلوچ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے مہاجرین کی توجہ بے دخل ہونے والے افغانوں کو ضروری انسانی ہمدردی کی نوع کی اعانت فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس سال ان کے ادارے نے تقریباً پانچ لاکھ افراد کے لیے شامیانے، ہنگامی پناہ گاہیں، راشن اور متعدد دیگر امدادی رسد فراہم کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ حالیہ دنوں ازبکستان کے شہر ترمیز میں اترنے والی تین پروازوں کے علاوہ ادارہ برائے مہاجرین افغانستان کے لیے مزید پروازوں کا بندوبست کر رہا ہے، جن میں انسانی ہمدردی کی بنیادی رسد لدی ہوگی۔

بقول ان کے،”ایسے میں جب ہم انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی کام میں اضافہ کر رہے ہیں، ادارے کو مزید وسائل درکار ہوں گے تاکہ آئندہ کے شدید سرد موسم کے دوران ضرورت مندوں کی مدد کی جا سکے، بصورت دیگر متاثرہ افراد کو ناقابل بیان مشکلات کا سامنا ہوگا”۔

اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے مہاجرین نے بے گھر ہونے والے افغانوں کے لیے فوری بین الاقوامی امداد کی اپیل کی ہے، جو افراد ملک کے اندر اور باہر سخت مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں۔

عالمی ادارے کی ایک حالیہ رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ افغانوں کی نصف سے زیادہ آبادی، جن کی تعداد تقریباً دو کروڑ 30 لاکھ ہے، شدید بھوک کا شکار ہیں۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ موسم سرما شدت اختیار کرنے والا ہے، جب متعدد علاقے باقی ملک سے کٹ جائیں گے، جہاں متاثرہ خاندانوں کو زندہ رہنے کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیادی اشیا کی اشد ضرورت ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں