،شپور زمانہ سائنسدان آئن شٹائن کی دستی تحریر پر مبنی نظریہ اضافیت کی نیلامی

بیسویں صدی کے عظیم ترین سائنسدان البرٹ آئن اسٹائن کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ایک اہم اور انقلابی تحریر گزشتہ روز 13 ملین ڈالر کی ریکارڈ قیمت  پر نیلام ہوئی۔

 صفحات پر مشتمل 54 صفحات کی یہ دستاویز ’عمومی نظریہ اضافیت‘ (جنرل تھیوری آف ریلیٹیویٹی) کا سب سے پہلا مسودہ ہے جس میں کچھ تکنیکی غلطیاں بھی ہیں۔

زیورخ، سوئٹزرلینڈ میں مقیم  ہونے کے دوران اس دستاویز پر آئن اسٹائن نے اپنے قریبی دوست مائیکل بیسو کے ہمراہ سال  1913 اور 1914 میں تحقیقات  کی تھیں۔

دستاویز کا زیادہ حصہ آئن اسٹائن کے ہاتھ سے لکھا ہوا ہے جبکہ چند مقامات پر بیسو کی دستی تحریربھی موجود ہے۔ اس دستاویز پر آئن اسٹائن کے ذاتی دستخط بھی موجود ہیں جو اس کے اصل ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں