مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ عمران خان کی جو کارکردگی ہے وہ خود اس کے بوجھ تلے دب گئے ہیں، میرا نہیں خیال کہ اس کے بعد ان کا کوئی سروائیول ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر انہوں نے کہا کہ وہی نیب جو میری ضمانت منسوخ کرنے اور روزانہ سماعت کی درخواست کررہا تھا آج جب اس کے پاس کوئی جواب نہیں تو وہ سماعت میں التوا مانگ رہے ہیں کیوں کہ جواب ہوتا تو وہ عدالت میں پیش کر کے فیصلہ لے لیتے۔
خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت سے متعلق سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ ’جب اتنی بُری کارکردگی ہو، نااہلی اور نالائقی کے ریکارڈ توڑے ہوں تو یہ تو ہونا ہی تھا‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ دیگر افراد کی بات تو دور پی ٹی آئی کے اپنے اراکین اسمبلی ان کے ساتھ نہیں کھڑے ہوں گے، روز ٹاک شوز میں پی ٹی آئی کے موجودہ قانون ساز اپنی حکومت پر تنقید کرتے ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ پی ٹی آئی کا ٹکٹ رسوائی کی علامت ہے جسے کوئی لینے والا نہیں رہے گا اور اگر کوئی لے گا تو ان کے لیے میرا مشورہ ہے کہ عوام میں ہیلمٹ پہن کر جائیں کیوں کہ جو گزشتہ 4 برسوں میں عوام کے ساتھ کیا گیا، مہنگائی میں انہیں پیس دیا وہ شدید غصے میں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر سے فیصلے آرہے ہیں، یہ پہلی حکومت ہے جو ہر ضمنی انتخاب میں ہاری ہے بلکہ بری طرح ہاری ہے اور لاہور میں لوگوں کے ڈر سے وہ تکنیکی بہانہ کرکے نکل گئے۔
نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو پی ٹی آئی اپنا گھر کہتی تھی جہاں اسے شرمناک شکست ہوئی اور پاکستان کے ہر علاقے سے ایسے فیصلے آرہے کہ اگر کوئی عزت والا شخص ہو تو خدا حافظ کہہ کر چلا جائے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کے پاس ابھی بھی موقع ہے کہ تھوڑی بہت عزت جو رہ گئی ہے اس کے ساتھ عوام کی جان چھوڑ دیں، اس کے بعد شاید ان کے لیے بہت برا وقت آنے والا ہے۔
او آئی سی کانفرنس کے بارے میں مریم نواز نے کہا کہ بطور پاکستانی اور افغانستان کے ہمسایہ ملک ہونے کی حیثیت سے میں یہ سمجھتی ہوں کہ افغانستان طویل عرصے سے جنگ کا شکار ہے، وہاں کے لوگوں نے بہت مشکلات اٹھائی ہیں جن کی بحالی صرف خطے کی نہیں بلکہ پوری دنیا کی ذمہ داری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے اس پر ہمیشہ اور ہر فورم پر بات ہونی چاہیے۔
شہباز شریف کا نام بطور وزیراعظم سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شہباز شریف پارٹی کے سب سے سینیئر رہنما اور صدر ہیں لیکن جب وقت آئے تو جماعت فیصلہ کرے البتہ شہباز شریف سمیت تمام رہنماؤں نے اس فیصلے کا اختیار نواز شریف کو دیا ہے۔
نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے ’اتنی شاندار کارکردگی دکھانے‘ پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کو مبارکباد دی اور کہا کہ ان کی کارکردگی دیکھ کر خوشی ہوئی اور لگا کہ یہ ہماری فتح ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت کا ہزارہ میں ووٹ بینک ہے لیکن میں چاہوں گی کہ پورے کے پی پر توجہ دینی چاہیے، کیوں کہ عمران خان کی نااہلی کی وجہ سے خیبرپختونخوا ایک عذاب سے گزرا ہے اور جو ترقی اس کا حق ہے وہ اسے ملے، وہاں مسلم لیگ (ن) کے لیے بہت پوٹینشیئل ہے اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ عمران خان کی جو کارکردگی ہے اسے دنیا کی کوئی طاقت سپورٹ نہیں کرسکتی اور وہ خود اس کے بوجھ تلے دب گئے ہیں، میرا نہیں خیال کہ اس کے بعد ان کا کوئی سروائیول ہے۔
نواز شریف کی واپسی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ بھی واپسی کے لیے بے چین ہیں اور بہت جلد واپس آئیں گے۔
بغیر کسی کارروائی کے سماعت ملتوی
اسلام آباد ہائی کورٹ نے مریم نواز، کیپٹن(ر) محمد صفدر کی ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیل کی سماعت بغیر کسی کارروائی کے 18 جنوری تک کے لیے ملتوی کردی۔
یہ دوسری مرتبہ ہے اس کیس میں بغیر کسی کارروائی کے سماعت ملتوی ہوئی، اس سے قبل عدالت نے 24 نومبر کو مریم نواز کے وکیل کی جانب سے سپریم کورٹ میں مصروف ہونے کی وجہ سے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست قبول کی تھی۔
جس کے ساتھ عدالت نے سماعت 21 دسمبر تک کے لیے ملتوی کردی تھی۔
تاہم آج ہونے والی سماعت کے موقع پر قومی احتساب بیورو (نیب) کے پراسیکیوٹر عثمان راشد چیمہ نے کہا کہ انہیں شدید بخار اور جسم میں درد ہونے کے ساتھ ذائقہ بھی محسوس نہیں ہورہا۔
انہوں نے عدالت میں دی گئی درخواست میں کہا کہ ڈاکٹروں نے انہیں قرنطینہ اور آرام کرنے کا کہا ہے جس کی وجہ سے عدالت تک سفر نہیں کرسکتے۔
چنانچہ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے مزید سماعت 18 جنوری تک کے لیے ملتوی کردی۔
‘میری میڈیا مینجمنٹ دیکھیے’: مریم نواز کی ایک اور مبینہ آڈیو لیک
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ایک اور مبینہ آڈیو کلپ سامنے آگئی ہے جس میں وہ بظاہر اپنی ‘میڈیا مینجمنٹ’ کی تعریف کر رہی ہیں۔
ٹوئٹر پر گردش کرنے والی ایک مختصر آڈیو کلپ میں مریم نواز مبینہ طور پر کہہ رہی ہیں کہ ‘دیکھیے میری میڈیا منیجمنٹ، جیو نیوز اور دنیا نیوز نے ان کو بے نقاب کردیا’۔
یہ واضح نہیں ہے کہ یہ آڈیو کلپ کب ریکارڈ کی گئی اور کس موقع پر 5 سیکنڈز کی کلپ میں اس طرف اشارہ کر رہی ہیں۔
قبل ازیں رواں ماہ کے اوائل میں مریم نواز کی اسی طرح کی آڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ مخصوص ٹی وی چینلوں کو اشتہارات نہ دینے کی ہدایت کر رہی تھیں اور اس کا انہوں نے اعتراف کیا تھا۔
تاہم اس دفعہ مریم نواز اس آڈیو کے بارے میں خاموش ہیں حالانکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کےباہر میڈیا سےگفتگو کے دوران ان سے مبینہ آڈیو کلپ کی صداقت کے حوالے سے سوال کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا تھا کہ ‘میں اس کا جواب پہلے ہی دے چکی ہوں اور واضح جواب دیا تھا’ اور اگلے سوال کی طرف بڑھیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ترجمان مریم اورنگ زیب بھی ان کے ہمراہ موجود تھی اور جب رپورٹر نے سوال دہرایا تو انہوں نےکہا ‘بس ہوگیا بھائی، وہ اس سوال کو پہلے ہی جواب دے چکی ہیں’۔
رپورٹر کی جانب سے سوال دہرایا گیا لیکن مریم نواز نے وہی جواب دیا کہ ‘میں اس کو پہلے ہی جواب دےچکی ہوں’۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر کہا کہ ‘مریم نواز کی پےدر پے آنے والی آڈیوز نے پاکستان کے میڈیا اسٹرکچر کی خامیاں سب کے سامنے آشکار کر دی ہیں’۔
انہوں نے کہا کہ ‘اگر ایسا میڈیا آزاد میڈیا ہے تو پھر غلام میڈیا کیا ہو گا؟ میڈیا کی آزادی مافیاز نے یرغمال بنا رکھی ہے’۔
وزیراعظم کے ڈیجیٹل میڈیا کے فوکل پرسن ارسلان خالد نے ٹوئٹر پر کہا کہ ‘مریم نواز کی آڈیوز مسلسل جیو نیوز اور دنیا نیوز کو مسلم لیگ (ن)کا لفافہ میڈیا ہونے کا الزام لگا رہی ہیں’۔
ارسلان خالدکا سوالیہ انداز میں کہنا تھا کہ ‘دونوں چینلز کی خاموشی شکوک پیدا کر رہی ہے، ان دونوں چینلز سے منسلک صحافی بتانا پسند کریں گے کہ کیا آپ سب لوگ مریم نواز سے مینج ہوتے ہیں’۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ ‘مریم نواز کی نئی آڈیو ٹیپ کے بعد جیو اور دنیا ٹی وی کو اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے’۔
مریم نواز کی آڈیوز مسلسل جیو نیوز اور دنیا نیوز کو ن لیگ کا لفافہ میڈیا ہونے کا الزام لگا رہی ہیں۔دونوں چینلز کی خاموشی شکوک پیدا کر رہی ہے۔ ان دونوں چینلز سے منسلک صحافی بتانا پسند کریں گے کہ کیا آپ سب لوگ مریم نواز سے مینج ہوتے ہیں؟ pic.twitter.com/qMUKInY8WE
— Dr Arslan Khalid (@arslankhalid_m) December 21, 2021
انہوں نے کہا کہ ‘مریم بار بار ان کی جانب داری کا دعویٰ فرما رہی ہیں، مریم کے ترجمان ان کی آڈیو کو حقیقت مان چکے ہیں، اس کے بعد ان اداروں کو اپنی پوزیشن واضح کرنی ہو گی’۔
شہباز گل کا کہنا تھا کہ ‘اگر یہ جھوٹ ہے تو مریم سے معافی کا تقاضا کریں’۔
مریم کا چینلوں کو اشتہار نہ دینے کی آڈیوکی تصدیق
گزشتہ ماہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران سوشل میڈیا میں مختلف چینلوں کو اشتہارات دینے سے منع کرنے کے حوالے سے زیر گردش آڈیو سے متعلق سوال پر مریم نواز نے کہا تھا کہ ‘میں یہ نہیں کہہ رہی ہوں کہ وہ جوڑجوڑ کر بنائی گئی ہے، یا میری آواز نہیں ہے، وہ میری آواز ہے’۔
انہوں نے کہا تھا کہ ‘جب میں پارٹی کا میڈیا سیل چلا رہی تھی، وہ بہت پرانی آڈیو ہے لیکن میں نے جب کہہ دیا کہ میں یہ نہیں کہہ رہی کہ توڑ جوڑ کر، میری فلاں تقریر سے نکال کر بنائی گئیں تو یہ بات سامنے آگئی’۔
مریم نواز نے کہا تھا کہ ‘میں اس پر بہت لمبی بات چیت بھی کرسکتی ہوں لیکن پھر کسی وقت کے لیے’۔ مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگ زیب نے وضاحتی بیان میں کہا تھا کہ مریم نواز کی گفتگو پارٹی اشتہارات سے متعلق تھی، یہ ایک پرانی آڈیو ہے جس پر مریم نواز نے جرات کے ساتھ سچ بولا ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ پارٹی اشتہار سے متعلق فیصلہ پارٹی ہی کرتی ہے، انہوں نے اس آڈیو کو مانا کیونکہ اس میں چھپانے والی کوئی بات تھی ہی نہیں ، جب کچھ غلط نہ کیا ہو تو اسی طرح کھل کر اعتراف کیا جاتا ہے۔
مریم اورنگ زیب نے کہا تھا کہ اس آڈیو پر طوفان برپا کرنے کی ضرورت نہیں، اصل معاملے سے توجہ ہٹائی نہیں جاسکتی، اس آڈیو کا جواب دیں جس نے 22 کروڑ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری کے جہنم میں دھکیل دیا۔
منبع: ڈان نیوز
The post یہ پہلی حکومت ہے جو بلدیاتی انتخابات میں بری طرح ہاری ہے، مریم نواز appeared first on شفقنا اردو نیوز.