سکھرکی نیب عدالت نےوفاقی وزیر خورشید شاہ کو ایک ماہ کےلیے علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی بیرون ملک جانے سے قبل دس لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے بھی جمع کرانے کا حکم دے دیا۔
سکھر کی نیب عدالت میں وفاقی وزیر سید خورشید احمد شاہ ،ان کے صاحبزادوں ، دو بیگمات ،داماد سابق صوبائی وزیر سید اویس شاہ سمیت 18 ملزمان کے خلاف ایک ارب 23 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے اثاثے بنانےکے الزام میں دائر نیب ریفرنس کی سماعت ہوئی سماعت کے موقع پر وفاقی وزیر خورشید شاہ ،ایم پی اے اویس شاہ و دیگر پیش ہوئے سماعت کے موقع پر عدالت کی جانب سے تشکیل کردہ میڈیکل بورڈ نے اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرادی جس کے بعد خورشید شاہ کے وکیل مکیش کمار نے عدالت سے استدعا کی وفاقی وزیرکو علاج کے لیے باہر جانے کی اجازت دی جائے اور انکا نام ای سی ایل سے نکالا جائے عدالت نے ان کی استدعا منظورکرلی اور مندرجہ بالا حکم جاری کیا سماعت کے بعد خورشید شاہ کے وکیل مکیش کمارنےمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ خورشید شاہ کا کورونا کے بعد سے مسلسل وزن کم ہورہاہے اور انہیں بیک بون ڈیسک سمیت دیگر امراض کا سامنا ہے جس پر ہم نے ان کے علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دینےکے حوالے سے درخواست دائر کی تھی جس پر عدالت نے سات ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دیا تھا جس نے اپنی رپورٹ آج عدالت میں جمع کرادی ہے۔جس میں ان کی بیماری کی تشخیص نہ ہونے اور علاج کے لیے ملک سے باہر جانے کی اجازت دینےکی سفارش کی تھی جس پر آج عدالت نے دس لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانےاور خورشید شاہ کو ایک ماہ کے لیے علاج کے حوالے سےملک سے باہر جانے کی اجازت دیدی ہے خورشید شاہ آئندہ چند روز میں تمام قانونی تقاضے پورے کرنےکے بعد بیرون ملک روانہ ہوں گے۔